رسائی کے لنکس

آئندہ ہفتے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں روس، ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کا ایک ابتدائی سہ فریقی اجلاس ہوگا، جس میں شام کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر غور ہوگا، جس میں تینوں ملکوں کی جانب سے اپریل میں شام پر ہونے والے سربراہ اجلاس کے ایجنڈا کو آخری شکل دی جائے گی۔

قزاقستان کی خارجہ امور کی وزارت نے بتایا ہے کہ 16 مارچ کو آستانہ میں ہونے والے اجلاس میں سفارت کار اُس طریقہٴ کار پر بات کریں گے جس کی مدد سے شام کے بحران کا خاتمہ لایا جاسکے۔

آستانہ میں جنوری 2017ء میں اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے اب تک آٹھ اجلاس ہوچکے ہیں۔ یہ اقوام متحدہ کی جانب سے جنیوا میں ہونے والے امن عمل کے علاوہ ایک کوشش ہے، جس کا مقصد شام میں تشدد کی کارروائیاں بند کرانے میں مدد دینا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ’’ضمانت دینے والے ملکوں‘‘ کے وزرائے خارجہ آپس میں ملاقات کریں گے، تاکہ شام میں ’’مخاصمانہ کارروائیوں کی سطح‘‘ کو کم کرنے کے طریقہ ٴکار پر بات کی جاسکے، جس کے بعد اپریل میں استنبول میں صدارتی سربراہ اجلاس ہوگا۔

روس نے نومبر 2017ء میں بحیرہٴ اسود کے صحت افزا مقام، سوچی میں اسی قسم کا سربراہ اجلاس منعقد کیا تھا۔ تینوں ملکوں کے سربراہان: روسی صدر ولادیمیر پوٹن؛ ترک صدر رجب طیب اردوان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ ضمانت دہندہ کا کردار ادا کریں گے، تاکہ اُس وقت شام میں جنگ بندی کو قائم رکھ سکیں اور اُسے مضبوط بنایا جاسکے، حالانکہ یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو پائی۔

آستانہ ملاقات کو مسترد کیے بغیر، امریکی محکمہٴ خارجہ کے ایک اہل کار نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہے کہ شام کے بارے میں امریکہ کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔

اہل کار نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’ہم نےجنیوا کے عمل کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے ذریعے شام میں سیاسی حل کے حصول کی کوشش جاری رکھی جائے گی‘‘۔

متوازی اہداف

سہ فرقی ملاقاتیں اور صدارتی سربراہ اجلاس ایسے وقت ہو رہے ہیں جب شام کے تنازع میں ملوث فریق مختلف اہداف کے پیچھے چل رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG