رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی: ٹرین پٹری سے اترگئی، 24 افراد ہلاک


امدادی اہلکار حادثے کے بعد ملبے سے زخمیوں کو نکال رہے ہیں۔

ترکی کے وزیرِ صحت احمد دیمرکان نے کہا ہے کہ حادثے کے بعد 338 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا جن میں سے 124 تاحال زیرِ علاج ہیں۔

ترکی کے شمال مغربی علاقے میں ایک مسافر ٹرین پٹری سے اترنے کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔

حادثہ اتوار کو تکیر دا نامی علاقے میں حالیہ شدید بارشوں کے باعث ریل کی پٹری کے نیچے سے مٹی سرکنے کے باعث پیش آیا۔

حکام کے مطابق ریل گاڑی پر 360 مسافر سوار تھے جو یونان اور بلغاریہ کی سرحد کے نزدیک واقع ترک شہر ادرنا سے استنبول جارہی تھی۔

حادثے کے سبب ٹرین کی چھ بوگیاں پٹری سے اتر کر الٹ گئیں۔ ترک حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 10 بتائی تھی لیکن پیر کو نائب وزیرِ اعظم رجب اقدق نے صحافیوں کو بتایا کہ حادثے میں 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ترکی کے وزیرِ صحت احمد دیمرکان نے کہا ہے کہ حادثے کے بعد 338 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا جن میں سے 124 تاحال زیرِ علاج ہیں۔

ترکی کے وزیرِ ٹرانسپورٹ احمد ارسلان نے کہا ہے کہ ٹرین کی پٹریوں کا معمول کے مطابق معائنہ کیا جاتا ہے اور حادثے کی جگہ پر پٹریوں کا آخری معائنہ اپریل میں کیا گیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق حالیہ برسوں میں ترکی میں پیش آنے والا یہ بدترین ٹرین حادثہ ہےجو صدر رجب طیب ایردوان کی نئی مدتِ صدارت کی حلف برداری کی تقریب سے محض ایک روز قبل پیش آیا ہے۔

'اے ایف پی' کے مطابق ایردوان کے دورِ حکومت میں ترک حکومت نے پرانے اور بوسیدہ ریل کے نظام کو ملک بھر میں جدید خطوط پر استوار کیا ہے اور کئی شہروں کے درمیان تیز رفتار مسافر ٹرینیں چلائی ہیں۔

ترکی میں مسافر عام طور پر شہروں کے درمیان سفر کے لیے ہوائی جہازوں اور بسوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں لیکن نئی تیز رفتار ٹرینوں کے چلنے کے بعد ملک میں ریل کے سفر کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG