رسائی کے لنکس

logo-print

استنبول: دہشت گردی کے الزام میں قید امریکی شہری رہا


ترکی نے بدھ کے روز غیر متوقع طور پر ناسا کے سابق سائنس دان کو جیل سے رہا کر دیا، جبکہ دہشت گردی کے الزامات پر وہ تین سال قید کاٹ چکے ہیں۔

سرکان گولجے امریکی اور ترک شہری ہیں۔ ان کی بیگم نے بتایا کہ وہ ’’حیران رہ گئے‘‘ جب انہیں اجازت ملی کہ وہ جیل سے باہر چلے جائیں اور ملک کے جنوبی شہر، ہاتے میں اپنے والدین کے گھر جا سکتے ہیں۔

سرکان کی رہائی سے چند ہی گھنٹے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ دونوں سربراہان نے کئی معاملات پر بات چیت کی۔ لیکن، بیان میں گولجے کے مقدمے کے بارے میں کوئی ذکر نہیں تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان، مورگن اتراگوس نے کہا ہے کہ ’’میں ترک حکام کے ارادے سے متعلق کچھ کہنا نہیں چاہتی، لیکن رہائی دینے کے آج کے اقدام کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ درست سمت کی جانب ایک اچھا قدم ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ خوش آئند خبر ہے‘‘۔

ترک پولیس نے جلا وطن مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کے خلاف ملک گیر مہم کے دوران ان کی حمایت کرنے والوں کے شبہے میں گولجے کو جولائی 2016ء میں گرفتار کیا تھا۔

ترکی نے امریکہ میں موجود گولن پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے اردوان حکومت کے خلاف ناکام بغاوت کی سرپرستی کی تھی۔

اُن دنوں گولجے اپنے آبائی ملک، ترکی میں چھٹیاں منا رہے تھے۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ ان کا تعلق ایک مسلح دہشت گرد گروہ سے ہے۔ گذشتہ سال، ایک عدالت نے انھیں ساڑھے سات برس قید کی سزا سنائی تھی، جسے بعد میں کم کرکے پانچ سال کر دیا گیا۔

گولجے اور امریکی اہلکاروں نے ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔

ایک اور امریکی شہری، پاسٹر انڈریو برنسن کو بھی گولن کے مبینہ حامیوں کے خلاف کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ انھیں اکتوبر میں رہا کیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG