رسائی کے لنکس

logo-print

ترک نواز شامی باغی عفرین میں داخل


شام کے علاقے عفرین سے کرد فورسز 'وائے پی جی' کے انخلا کے بعد اتوار کو ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے شہر کے مختلف حصوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

فری سریئن آرمی کے ایک ترجمان محمد الحمدین نے خبر رساں ایجنسی 'روئٹرز' کو اس بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ جنگجو اتوار کو طلوع آفتاب سے کچھ دیر قبل مشرق، مغرب اور شمال کی جانب سے شہر میں داخل ہوئے اور انھیں کسی بھی طرح کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگجوؤں نے علاقے کے مختلف حصوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور وہ گھروں اور گلیوں میں کردوں کی ممکنہ موجودگی کی جانچ کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔

تاحال ترکی کی طرف سے اس پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ انقرہ نے 20 جنوری کو 'وائے پی جی' کے خلاف عفرین میں فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں اور اسے فری سریئن آرمی نامی شامی باغی گروپ کی حمایت حاصل تھی۔

ترکی 'وائے پی جی' کو اپنے جنوب مشرقی حصے میں برسرپیکار کردوں کا ہی حصہ سمجھتے ہیں۔

عفرین میں لڑائی کے باعث حالیہ دنوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم 'سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' نے ہفتہ کو بتایا تھا کہ مقامی آبادی کے علاوہ ایسے افراد بھی عفرین سے نقل مکانی کرنے والوں میں شامل ہیں جو شام کے دیگر علاقوں سے جنگ کے باعث فرار ہو کر یہاں مقیم تھے۔

گزشتہ رات ترکی کے لڑاکا طیاروں کی طرف سے عفرین میں فضائی کارروائیاں کیے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG