رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی: پارلیمانی انتخابات، اردگان واضح اکثرت حاصل کرنے میں ناکام


'انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے پی)' کو 41 فی صد ووٹ پڑے ہیں؛ جب کہ سنہ 2011 میں اُن کی پارٹی کو لگ بھگ 50 فی صد ووٹ ملے تھے۔ اندازوں کے مطابق، 550 رکنی پارلیمان میں، 'اے کے پی' کو 267 نشستیں حاصل ہوں گی؛ جو اُس تعداد سے کم ہے جس سے اردگان اپنی اکثریت جاری رکھ سکیں

ترکی میں اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں، حکمراں جماعت کی واضح اکثریت کم ہو گئی ہے، جس صورت حال کے باعث صدر رجب طیب اردگان اب اس قابل نہیں ہوں گے کہ وہ ملک کے آئین کو از سر نو تحریر کر سکیں، جس کے ذریعے وہ صدارتی جمہوریت کی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے، اور اُنھیں زیادہ اختیارات مل جاتے۔

اب تک 80 فی صد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے، اور اردگان کی مذہبی زیر اثر، 'انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے پی)' کو تقریباٍ 41 فی صد ووٹ پڑے ہیں؛ جب کہ سنہ 2011 میں اُن کی پارٹی کو لگ بھگ 50 فی صد ووٹ ملے تھے۔ اندازوں کے مطابق، 550 رکنی پارلیمان میں، 'اے کے پی' کو 267 نشستیں حاصل ہوں گی؛ جو اُس تعداد سے کم ہیں جس سے وہ اپنی اکثریت جاری رکھ سکیں۔

کردوں کی حامی 'پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی' کو 10 فی صد ووٹوں کی حد حاصل ہوگئی ہے، جس سے وہ پہلی بار پارلیمان میں شامل ہو سکتی ہے؛ اور یوں، اُسے 74 سیٹیں مل جائیں گی، جب کہ دیگر جماعتیں باقی ماندہ نشستیں جیتیں گی۔

اردگان نے 'نئی ترکی' تعمیر کرنے، اور امریکہ کی طرز پر جمہوریت کا صدارتی نظام قائم کرنے پر زور دیا تھا۔

تاہم، برعکس اِس کے، انتخابات کے نتیجے میں سنہ 2002 کے بعد پہلی بار وہ اتحادی حکومت تشکیل دینے پر مجبور ہوں گے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قوم پرست 'ایم ایچ پی' پارٹی، جسے نئے پارلیمان میں 85 نشستیں ملنے کی توقع ہے، وہ اردگان کی جماعت سے مل کر حکومت تشکیل دے گی۔ لیکن، پارٹی کے ایک اہل کار کا کہنا ہے کہ ابھی یہ بات قبل از وقت ہے کہ واقعی ایسا ہوگا۔

ترکی میں اتوار کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ اس الیکشن کو صدر رجب طیب اردوان اور ان کی جماعت 'اے کے پارٹی' کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

انتخابات کے نتائج اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا 12 سال سے اقتدار میں رہنے والی یہ جماعت پھر سے حکومت بنائے گی یا نہیں۔

اردوان اکثریت حاصل کر کے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ترکی میں بھی امریکی طرف کا صدارتی نظام ہی خطے میں ان کے ملک کے اثرورسوخ کو بڑھائے گا۔

اس کے لیے وہ قانون میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں جو بھارتی اکثریت سے انتخابات میں کامیابی سے ہی ممکن ہے۔

پارلیمان کی 550 نشستوں پر امیدواروں کے انتخاب کے لیے تقریباً پانچ کروڑ چالیس لاکھ لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

انتخابات میں ملک کی بیس سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدوار میدان میں اتار رکھے ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں میں حکمران جماعت تقریبآً 44 فیصد ووٹ حاصل کرنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

ترکی کے انتخابات میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کوئی جماعت پورے ملک میں ڈالے گئے ووٹوں کا دس فیصد حاصل نہیں کر سکتی تو پھر اس کی حاصل کردہ نشستیں دیگر بڑی جماعتوں میں تقسیم کر دی جاتی ہیں۔

کرد نواز پارٹی ایچ ڈی پی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ دس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر لے گی۔

دو روز قبل جنوب مشرقی کرد علاقے میں ہونے والے ہلاکت خیز بم دھماکے کی وجہ سے بھی اس جماعت سے ہمدردیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس واقعے میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG