رسائی کے لنکس

ترکیہ اور شام زلزلے سے ہلاکتیں 22 ہزار سے متجاوز

ترکی اور شام میں آنے والے شدید زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد جمعے کو 22 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ ہلاکتوں میں یہ اضافہ شام میں زلزلے سے متاثرہ باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں اور دوسرے حصوں میں امدادی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے نتیجے میں ہوا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ امیدیں بھی دم توڑ رہی ہیں کہ ملبوں میں دبے ہوئے لوگوں میں اب تک کچھ زندہ ہوں گے۔

لیکن خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ریسکیو ورکرز نے جمعے کو زلزلے کے 105 گھنٹے کے بعد 18 ماہ کے بچے کو ملبے تلے سے زندہ نکال لیا۔ اس کے علاوہ سات برس کے محمد حسین کو بھی ملبے سے نکال لیا گیا۔

حکام کے مطابق ترکیہ میں زلزلے سے اموات کی تعداد 18991 ہو گئی ہے جب کہ شام میں 3377 افراد ہولناک زلزلے کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ترکیہ کی مقامی نیوز ایجنسی 'آئی ایچ اے' نے رپورٹ کیا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ شہر انتاکیہ میں ریسکیو اہل کاروں نے ملبے کے ڈھیر سے تین روز بعد ایک لڑکی اور اس کے والد کو زندہ حالت میں نکالا۔ اسی طرح 'ڈی ایچ اے' نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ دیابکر میں ریسکیو رضاکاروں نے جمعرات کی صبح ایک خاتون کو زندہ نکالا ہے۔

ترکیہ کے جنوبی صوبوں میں زلزلے سے متاثرہ افراد شدید ٹھنڈ میں عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔ کئی افراد یہ شکایت کر رہے ہیں کہ ریسکیو اہلکاروں کے پاس ملبہ ہٹانے کے لیے درکار مشینری اور تجربہ نہیں ہے۔

"ریاست کہاں ہے؟ گزشتہ دو روز سے ہم بھکاری بنے ہوئے ہیں۔ ہم اب بھی انہیں ملبے سے نکال سکتے ہیں۔"

یہ کہنا ہے کہ مالاطیہ شہر کی رہائشی صبیہا الیناک کا ،جو ملبے کا ڈھیر بنی عمارت کے نیچے پھنسے اپنے رشتہ داروں کی تلاش کے لیے وہاں موجود ہیں۔

 ترکیہ و شام کے زلزلہ متاثرین کے لیے اب تک بین الاقوامی امداد کیوں نہیں پہنچی؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:05:31 0:00

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں انہوں نے ریسکیو آپریشن میں تاخیر کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خود ہی ملبے سے اپنے پیاروں کو نکالنا ہو گا اور ہم انہیں باہر نکال سکتے ہیں۔

ترک حکام کے مطابق ملک کے 10 صوبوں میں زلزلے سے ایک کروڑ 35 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

مشکلات پیش آ رہی ہیں: صدر ایردوان

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان بدھ کو زلزلے سے متاثرہ صوبے قہرمان مرعش پہنچے جہاں انہوں نے جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ زلزلے کے نتیجے میں سڑکوں اور ہوائی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے مشکلات پیش آ رہی ہیں لیکن اب صورتِ حال بہتر ہے۔

زلزلے سے متاثرہ ترکیہ اور شام میں امدادی کارروائیاں

ترکیہ میں زلزلے کے بعد بے گھر افراد لے لیے شیلٹر کا انتظام کیا گیا ہے۔
1/11 ترکیہ میں زلزلے کے بعد بے گھر افراد لے لیے شیلٹر کا انتظام کیا گیا ہے۔
زلزلے کے باعث سینکڑوں شہری گھروں سے محروم ہو گئے ہیں۔
2/11 زلزلے کے باعث سینکڑوں شہری گھروں سے محروم ہو گئے ہیں۔
 کئی متاثرین نے شاپنگ مالز، اسٹیڈیمز، مساجد اور کمیونٹی سینٹروں میں پناہ لی۔
3/11  کئی متاثرین نے شاپنگ مالز، اسٹیڈیمز، مساجد اور کمیونٹی سینٹروں میں پناہ لی۔
زلزلے سے متاثرہ علاقوں سے ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جا رہا ہے۔
4/11 زلزلے سے متاثرہ علاقوں سے ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جا رہا ہے۔
شام کے اسپتال میں زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہیں۔
5/11 شام کے اسپتال میں زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہیں۔
عراق کی جانب سے شام کو امدادی سامان بھیجا گیا ہے۔
6/11 عراق کی جانب سے شام کو امدادی سامان بھیجا گیا ہے۔
شام میں حکام تباہ شدہ علاقوں سے لوگوں کو ریسکیو کر رہے ہیں۔
7/11 شام میں حکام تباہ شدہ علاقوں سے لوگوں کو ریسکیو کر رہے ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ترکیہ اور شام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے لیے شمعیں روشن کی گئیں۔
8/11 پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ترکیہ اور شام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے لیے شمعیں روشن کی گئیں۔
 دونوں ملکوں میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
9/11  دونوں ملکوں میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
زلزلے کے نتیجے میں خطے میں ہزاروں عمارتیں منہدم ہوئی تھیں جہاں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا عمل اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
10/11 زلزلے کے نتیجے میں خطے میں ہزاروں عمارتیں منہدم ہوئی تھیں جہاں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا عمل اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
پاکستان کی جانب سے ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے خصوصی طیارہ سامان لے کر روانہ ہو گیا ہے۔ 
11/11 پاکستان کی جانب سے ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے خصوصی طیارہ سامان لے کر روانہ ہو گیا ہے۔ 
Previous slide
Next slide

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ ہمیں اب بھی ایندھن کے مسائل کا سامنا ہے اور امید ہے اس پر جلد قابو پالیں گے۔

اس سے قبل صدر ایردوان نے ملک کے جنوبی صوبے حاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے زلزلے کے بعد حکومتی اقدامات پر ہونے والی تنقید کی مذمت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت اتحاد اور یکجہتی کا ہے اور اس وقت وہ بعض افراد کی جانب سے سیاسی مفاد کی خاطر الزام تراشیوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔

اس رپورٹ میں معلومات خبر رساں ادارے اے ایف پی، ' ایسوسی ایٹڈ پریس'اور'رائٹرز' سے لی گئی ہیں۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG