رسائی کے لنکس

logo-print

شامی مہاجرین کو خود یورپ چھوڑ کے آئیں گے، ترک صدر کا انتباہ


صدر ایردوان نے دھمکی دی ہے کہ اگر یورپ نے ترکی میں مقیم 25 لاکھ شامی پناہ گزینوں کی مدد نہ کی تو وہ خود انہیں یورپی یونین کے دروازے تک چھوڑ کر آئیں گے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے دھمکی دی ہے کہ اگر یورپ نے ان کے ملک میں مقیم 25 لاکھ شامی پناہ گزینوں کی مدد نہ کی تو وہ خود انہیں یورپی یونین کے دروازے تک چھوڑ کر آئیں گے۔

جمعرات کو انقرہ میں کاروباری شخصیات کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے خود سے منسوب اس بیان کی تصدیق کی کہ انہوں نے گزشتہ سال یورپی رہنماؤں کو متنبہ کیا تھا کہ اگر انہوں نے ترکی کی مدد نہ کی تو وہ شامی مہاجرین کا بوجھ مزید اٹھانے سے انکار کردے گا۔

رواں ہفتے یونان کی ایک نیوز ویب سائٹ نے یہ خبر بریک کی تھی کہ گزشتہ سال نومبر میں یورپی کمیشن کے سربراہ جین کلاڈ جنکر کے ساتھ ملاقات میں ترک صدر نے ان پر واضح کردیا تھا کہ اگر یورپی یونین نے مہاجرین کی میزبانی میں ترکی کا ہاتھ نہ بٹایا تو ترک حکومت مہاجرین کو یورپ کی طرف دھکیل دے گی۔

یونانی ویب سائٹ کی اس خبر کو ترکی میں حزبِ اختلاف کے اخبارات سمیت یورپی ذرائع ابلاغ نے خاصی کوریج دی تھی۔

جمعرات کو اپنے خطاب میں ترک صدر نے خود سے منسوب اس بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس انتباہ کا مقصد ترکی اور خود مہاجرین کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔

صدر ایردوان نے اپنی تقریر میں اقوامِ متحدہ کو بھی اس کے اس بیان پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جس میں عالمی ادارے نے ترکی پر زور دیا تھا کہ وہ شامی مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔

ترک صدر نے کہا کہ اقوامِ متحدہ شام کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کے بجائے الٹا ترکی سے مزید مہاجرین کو قبول کرنے کا تقاضا کر رہا ہے جس نے پہلے ہی 25 لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے۔

ترکی کی جنوب مشرقی سرحد شام جب کہ مغربی سرحدیں یورپی ملکوں یونان اور بلغاریہ سے ملتی ہیں جس کے باعث ترکی شام سے آنے والے مہاجرین اور یورپ کے درمیان پل بنا ہوا ہے۔

ترکی میں مقیم شامی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد پناہ کی تلاش اور بہتر مستقبل کی آس میں یورپ کا رخ کر رہی ہے اور اب تک نو لاکھ سے زائد مہاجرین ترکی کے راستے یورپ پہنچ چکے ہیں۔

پناہ گزینوں کی آمد سے پریشان یورپی ملکوں کا مطالبہ ہے کہ ترکی ان مہاجرین کو یورپ آنے سے روکے۔

اس کے برعکس ترک حکومت کا موقف ہے کہ اگر یورپی ممالک ان مہاجرین کی اپنے ہاں آمد روکنا چاہتے ہیں تو انہیں ترکی سمیت شام کے ان پڑوسی ملکوں کی مدد کرنا چاہیے جو لاکھوں شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہے ہیں تاکہ ان مہاجرین کو انہی ملکوں میں بہتر سہولتیں اور رہائش فراہم کی جاسکے۔

XS
SM
MD
LG