رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان ’تاپی‘ گیس پائپ لائن منصوبے کی جلد تکمیل کا خواہاں


تاپی گیس پائپ لائن کا ایک بڑا حصہ افغانستان میں سے ہو کر گزرے گا اور وہاں کی سکیورٹی کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر اس منصوبے کی بر وقت تکمیل کے حوالے سے شکوک و شبہا ت کا اظہار کیا جارہا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اُن کا ملک چار ملکی گیس پائپ لائن منصوبے ’تاپی‘ کی بروقت اور جلد تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔

اُنھوں نے یہ بات پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترکمانستان کے صدر قربانی گلی بردی محمدوف سے اپنی ملاقات میں کہی۔

ترکمانستان کے صدر بردی محمدوف پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر بدھ کی صبح کو اسلام آباد پہنچے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے مہمان صدر کا نور خان ائیر بیس پراستقبال کیا۔

صدر بردی محمدود کے اسلام آباد پہنچنے کے فوراً بعد ترکمانستان اور پاکستان کے درمیان وفود کی سطح کے مذاکرات ہوئے، پاکستانی وفد کی قیادت وزیر اعظم نواز شریف نے جب کہ ترکمانستان کے وفد کی سربراہی صدر بردی محمدودوف نے کی۔

مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں نے توانائی، معیشت، تجارت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے سے متعلق مفاہمت کی یاداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے مہمان صدر کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں چار ملکی ’تاپی‘ گیس پائپ لائن منصوبے کے بارے میں کہا کہ یہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جس کی تکمیل کے بعد توانائی کی کمی کا شکار پاکستان کے صنعتی شعبے کی مکمل پیدواری صلاحیت بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی طاہر اقبال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’تاپی‘ پائپ لائن منصبوبہ کی سکیورٹی کا معاملہ نہایت اہم ہے جس کے لیے تمام فریق ممالک کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

دس ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے کے تحت 1800 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے ترکمانستان سے قدرتی گیس افغانستان، پاکستان اور بھارت کو مہیا کی جائے گی اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ 2019 میں مکمل ہو گا جس سے پاکستان کو یومیہ 1325 ملین مکعب فٹ قدرتی گیس حاصل ہو سکے گی۔

تاپی گیس پائپ لائن کا ایک بڑا حصہ افغانستان میں سے ہو کر گزرے گا اور وہاں کی سکیورٹی کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر اس منصوبے کی بر وقت تکمیل کے حوالے سے شکوک و شبہا ت کا اظہار کیا جارہا ہے۔

XS
SM
MD
LG