رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں ہر 28 منٹ میں ایک بچے کی شادی ہوتی ہے: رپورٹ


کم عمری یا بچپن میں شادیاں کرنے کا سب سے زیادہ رجحان سندھ میں ہے جہاں ہر 100 میں سے 33 بچے وقت سے پہلے شادی جیسی بھاری ذمے داری کے بوجھ تلے تب جاتے ہیں۔

عالمی ادارے ’یونیسف‘ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر 100 میں سے 24 لوگوں کی شادیاں ’بچپن‘میں ہی کردی جاتی ہیں۔ نارویجین ہیومن رائٹس فنڈ (این ایچ آر ایف) کے تعاون سے سندھ میں سرگرم عمل غیر سرکاری تنظیم ’سجاگ سنسار ‘ کا کہنا ہے کہ یہاں اوسطاً ہر 28 منٹ میں ایک’ بچے‘ کی شادی ہوتی ہے۔

ادھر ڈیمو گرافک اینڈ ہیلتھ سروے آف پاکستان کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کم عمری یا بچپن میں شادیاں کرنے کا سب سے زیادہ رجحان سندھ میں ہے جہاں ہر سو میں سے 33 بچے وقت سے پہلے شادی جیسی بھاری ذمے داری کے بوجھ تلے تب جاتے ہیں۔

’سجاگ سنسار ‘سندھ میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف بہت محنت سے ایک چراغ جلائے ہوئے ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس چراغ کی روشنی دور دور تک پھیل رہی ہے۔ اس کے روح رواں معشوق برہمانی ہیں جن کے حوصلے بہت بلند ہیں ۔ وہ کم وسائل اور ناموافق حالات کے باوجود مایوس نہیں۔ وہ سندھ میں مختلف عوامی دلچسپی کے منفرد طریقوں سے کم عمری کی شادی کے خلاف مہم چلاتے رہتے ہیں۔

معشوق برہمانی
معشوق برہمانی

ایک گفتگو میں معشوق برہمانی نے وائس آف امریکہ کوبتایا ’’پاکستان میں ہر سال لاکھوں لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہرایک منٹ میں 28 شادیاں۔‘‘

کم عمری کی شادیاں کا رجحان کیوں کر عام ہے ؟ وی او اے کے اس سوال پر ان کا کہنا تھا ’ پاکستانی عوام رسم وراج کو قانون پر ترجیح دیتی ہے اور قانون کا احوال یہ ہے کہ بچوں کی شادی پر پابندی کا ایکٹ 1935 میں یعنی برطانوی دور حکومت میں بنا تھا اسی کو بنیاد بنیاد بناتے ہوئے’ مسلم فیملی لاء 1961 تشکیل پایا ۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ’’پرانے قانون میں سولہ سال کی عمر کی لڑکی اور اٹھارہ سال کی عمرکے لڑکے کی شادی کو قانونی قرار دیا گیا تھا۔ بچوں کی شادی کرانے پر جرمانہ صرف ایک ہزار روپے اور صرف ایک مہینے کی ہی قید کی سزا دی جاسکتی تھی۔ مسلم فیملی لاء 1961 کی جگہ سندھ اسمبلی نے حالیہ مدت میں ایک نیا قانون منظورکیا ہے جس کے تحت لڑکا اورلڑکی دونوں کی قانونی عمر اٹھارہ سال قراردی گئی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں تین سال قید کی سزا اور 45 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔

انہوں نے وی او اے سے تبادلہ خیال میں بچوں کی شادی کے قانون پر سختی سے عملدر کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے بعد بچوں کی شادیوں کا سب سے زیادہ رجحان خیبر پختوخواہ میں ہے جہاں 29 فیصد جبکہ بلوچستان میں 22 اور پنجاب میں 20 فیصد شادیاں کم عمری یا بچپن میں ہی کر دی جاتی ہیں۔ اس پر قابو اسی صورت میں پایا جاسکتا ہے جبکہ قانون پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائے ۔

معشوق برہمانی کے بقول ان کی تنظیم کی جانب سے سندھ کے ضلع دادو میں 2014 میں کئے گئے سروے کے مطابق ’بچوں‘ کی شادی کی شرح 39 فیصد تھی۔ قانون پر عملدرآمد کرانے کی ذمہ دار ایجنسیوں کو اس کی اس جانب دلچسپی نہیں جبکہ عوام بچوں کی شادی کے نقصان دہ اثرات سے ناواقف ہیں۔

سندھ میں کم عمری کی شادی کے خلاف قانون تو بن گیا تاہم بقیہ تینوں صوبوں میں پرانا قانون ہی نافذ ہے۔

سجاگ سنسار کاحکومت سے مطالبہ ہے کہ کم عمری کی شادی کے منفی اثرات کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کرنے کی غرض سے مہم چلائی جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG