رسائی کے لنکس

logo-print

ٹوائی لائٹ شارٹ فلم سیریز کی خواتین ڈائریکٹرز


پانچ منتخب خواتین ڈائریکٹرز ٹوائی لائٹ فلم سیریز کے کرداروں کو دوبارہ زندگی دینے کے لیے پانچ مختصر فلمیں تیار کریں گی

ہالی وڈ کی بلاک بسٹر فلم سیریز 'ٹوائی لائٹ' کے مرکزی کردار ازابیلا، ایڈورڈ، جیک اور چارلی سمیت فلم کے باقی مقبول کردار ایک بار پھر سے فیس بک کے ذریعے مداحوں کے لیے انٹرٹینمنٹ کا سامان لے کر آرہے ہیں۔

ٹوائی لائٹ نامی ناول سے ماخوذ فلم دی ٹوائی لائٹ ساگا کی کامیابی کے بعد پانچ منتخب خواتین ڈائریکٹرز ٹوائی لائٹ فلم سیریز کے کرداروں کو دوبارہ زندگی دینے کے لیے پانچ مختصر فلمیں تیار کریں گی جنھیں خصوصی طور پر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک پر آئندہ برس دکھایا جائے گا۔

ویب سائٹ 'ڈیڈ لائن ڈاٹ کام' کے مطابق پانچ خواہش مند خواتین کو ایک مقابلے کے ذریعے ٹوائی لائٹ شارٹ فلم کی ڈائریکٹرز منتخب کیا جائے گا جبکہ شارٹ فلم 'اسٹوری ٹیلر نیو کریٹیو وائسز آف دی ٹوائی لائٹ ساگا' کے نام سے دکھائی جائے گی جسے فلم آرگنائزیشن کی خواتین تنظیم اور لائنز گیٹ انٹرٹینمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔

ازابیلا کے کردار سے مقبولیت حاصل کرنے والی کرسٹین اسٹوارٹ کا نام ججز کے پینل میں شامل ہے۔ ان کے علاوہ ججز کے فرائض کیٹ ونسلٹ، فروزن فلم کی معاون ڈائریکٹرجینیفر لی، ٹوائی لائٹ کتاب کی مصنفہ اسٹیفنی مئیر، فلم کی ڈائریکٹر کیتھرین ہارڈوک اور فلمی تنظیم کی سربراہ کیتھی انجام دے رہی ہیں جو منتخب ڈائریکٹرز کی سرپرستی بھی کریں گی۔

ٹوائی لائٹ فلم سیریز کی قلم کار روزن برگ نے اسی فلم کے ذریعے دنیا کی امیر ترین خواتین مصنفین کی فہرست میں جگہ حاصل کی جبکہ ویمپائر رومانوی جوڑے کے طور پر فلم کی ہیروئن کرسٹین اسٹوارٹ اور ہیرو رابرٹ پٹنسن کو بے پناہ شہرت حاصل ہوئی ۔

قیاس کیا جارہا ہے کہ ٹوائی لائٹ کی حقیقی کاسٹ کے بجائے شارٹ فلم میں نئے اداکار فلم کے کرداروں کے روپ میں دکھائی دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق فیس بک اور ٹونگل کے ذریعے مداح ٹوائی لائٹ شارٹ فلم کی فاتح ڈائریکٹر کا فیصلہ کرنے میں ججز کی مدد کریں گے۔

گزشتہ ماہ فلم انڈسٹری میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی تیار کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دنیا کی نصف آبادی کی نمائندہ خواتین کو فلم انڈسٹری میں محض 30.9 فیصد بولنے والے کرداروں میں جگہ ملتی ہے۔

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جب ایک فلم کی مصنفہ یا ڈائریکٹر ایک خاتون ہوتی ہے تو اسکرین پر خود بخود خواتین کرداروں میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اسی لیے فلم میکر خواتین کو بھرتی کرنے سے صنفی تفریق کے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG