رسائی کے لنکس

ٹویٹر میں سینسر کا استعمال


ٹویٹر میں سینسر کا استعمال
ٹویٹر میں سینسر کا استعمال

یہ نیا فیصلہ ٹویٹر کے ایک سال پہلے کے اس بیان سے یکسر الٹ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی سروس کے پیغامات کو سینسر نہ کیا جائے

کم الفاظ میں بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر نے اعلان کیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں اپنی سروس کی سینسرشپ کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کررہاہے جو مختلف ممالک میں وہاں کے قوانین کو ملحوظ رکھے گی۔

امریکہ میں قائم ٹویٹر کمپنی نے اس ہفتے اپنے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ ابھی اس نے نئی مذکورہ ٹیکنالوجی کا استعمال شروع نہیں کیا، لیکن جب ایسا ہوگا تو جو شخص کوئی ایسا پیغام پوسٹ کرے گا جس پر سینسر قوانین کا نفاذ ہوسکتا ہو، اس کے سامنے سکرین پر ایک پیغام ظاہر ہوگا کہ جس میں یہ بتایا جائے گا کہ آپ کے’ٹویٹ‘ یعنی پیغام کو اس کے ملکی قوانین کے پیش نظر ہٹادیا گیا ہے۔

یہ نیا فیصلہ ٹویٹر کے ایک سال پہلے کے اس بیان سے یکسر الٹ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی سروس کے پیغامات کو سینسر نہیں کیا جائے کیونکہ ان سے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں حکومتوں کے خلاف تحریکوں کو منظم کرنے میں مدد ملی تھی۔

ٹویٹر نے اپنے نئے فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ماسوائے اس کے کہ بین الاقوامی سطح پر ٹویٹر کے پھیلاؤ کے ساتھ یہ سروس ان ممالک میں بھی پہنچ رہی ہے جہاں آزادی اظہار کے قوانین مختلف ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے بعض قوانین ایسے ہیں جن کا کئی دوسرے ممالک میں وجود نہیں ہے، جب کہ کئی ملکوں کے آزادی اظہار کے قوانین امریکہ جیسے ہیں لیکن ان کے ہاں بعض موضوعات پر پابندیاں عائد ہیں۔

بیان میں فرانس اور جرمنی کی مثالیں دے کر کہا گیا ہے کہ وہاں نازیوں کی حمایت میں کچھ کہنے پر پابندی ہے۔

ٹویٹر نے کسی اور ملک کی مثال نہیں دی ، بالحضوص تھائی لینڈ کا ذکر نہیں کیا جہاں بادشاہت کے خلاف کچھ کہنا خلاف قانون ہے۔

ٹویٹر کی سروس کئی ایسے ممالک میں موجود نہیں ہے جہاں میڈیا پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ جس کی ایک مثال چین ہے۔

XS
SM
MD
LG