رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں ٹوئٹر پر پابندی لگنے کا خدشہ


کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی اب ٹوئٹر کو آخری نوٹس دینے والی ہے، اس پر عمل نہ کیا گیا تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان میں ٹوئٹر پر پابندی لگا دی جائے گی۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کو خبردار کیا ہے کہ قابل اعتراض مواد کو بلاک کرنے کی درخواست پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان میں ٹوئٹر پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے انٹرنیٹ پالیسی اور ویب تجزیے کے شعبے کے ڈائریکٹر جنرل نثار احمد نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کو ہدایت کی کہ ٹوئٹر سے پاکستان مخالف مواد ہٹانے کیلئے درخواست کی جائے اور اسے باور کرایا جائے کہ اگر اُس نے ایسا نہ کیا تو پاکستان میں ٹوئٹر پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

نثار احمد نے عدالت کو بتایا ہے کہ ٹوئٹر نے اس بارے میں کی گئی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

پاکستان کی ٹیلی کمیونی کیشنز اتھارٹی نے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ فیس بُک، یو ٹیوب اور سوشل میڈیا کی دیگر ویب سائٹس نے پاکستانی حکومت کی طرف سے قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کی درخواست پر عمل کیا ہے۔ تاہم ٹوئٹر نے ایسا نہیں کیا ہے۔

ٹوئٹر پاکستان کے سیاسی حلقوں میں گزشتہ کئی برس سے انتہائی مقبولیت اختیار کر گیا ہے اور سیاستدان مختلف موضوعات پر اپنی رائے کا فوری اظہار کرنے کیلئے ٹویٹر کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

پاکستان میں ماضی میں بھی متعدد بار سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر پابندی لگائی جاتی رہی ہے۔ فیس بُک پر دو مرتبہ یعنی 2008 اور 2010 میں پابندی عائد کی گئی تھی جبکہ 2012 میں یوٹیوب پر بھی دو سال تک پابندی عائد رہی۔

کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی اب ٹوئٹر کو آخری نوٹس دینے والی ہے، اس پر عمل نہ کیا گیا تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان میں ٹوئٹر پر پابندی لگا دی جائے گی۔

نثار احمد نے کہا کہ عدالت ٹوئٹر کو سبق سکھانا چاہتی ہے کہ ایسا نہ کرنے سے وہ پاکستان میں اپنے کاروبار سے محروم ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی آئین آزادی اظہار کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور حکومت کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہئیے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کیسا مواد شائع کیا جائے اور کسے روکا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG