رسائی کے لنکس

logo-print

کوئٹہ میں عیسائی برادری پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی


شدت پسند تنظیم داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی شام کوئٹہ میں عیسیٰ نگری پر حملہ اُس نے کیا جس کے نتیجے میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے نواحی علاقے عیسیٰ نگر ی میں عیسائی برادری کے چند لوگ اتوار کی شام کو چرچ میں عبادت کے بعد واپس اپنے گھروں کو جا رہے تھے کہ چر چ کے قریب مو ٹر سائیکل پر سوار دو نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ کی جًس کی زد میں آ کر ایک لڑکی سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو فوری طور پر بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا جا رہا تھا کہ ایک زخمی نے راستے میں اور دوسرے نے اسپتال میں دم توڑ دیا جبکہ دیگر چار زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشنا ک بتائی گئی ہے۔

فائرنگ کے اس واقعے کے خلاف عیسائی برادری کے لوگوں نے بھر پور احتجاج کیا اور بروری روڈ کو کئی گھنٹوں تک بند کئے رکھا ۔

مسلح افراد فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل پر فرارہو گئے۔ واقعہ کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر موقع پر موجود شواہد جمع کئے اور عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں۔

اس سے پہلے رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں ایک رکشے میں سوار عیسائی برادری کے چار افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کے واقعہ کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی تھی۔

گزشتہ سال دسمبر میں کو ئٹہ کے مرکزی علاقے زرغون روڈ پر عیسائی برادری کے ایک چرچ پر دو خودکش حملہ آوروں نے حملہ کر کے دس سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے واقعہ کی مذمت کی ہے اور پولیس حکام کو عیسائی اور دیگر اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی سیکورٹی سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG