رسائی کے لنکس

logo-print

بوسٹن میراتھن کے دوران دھماکے، 2 ہلاک، 100 سے زائد زخمی


بوسٹن پولیس نے دھماکوں کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ سو سے زائد افراد ہسپتالوں میں طبی امداد حاصل کر رہے ہیں۔

امریکہ کے شہر بوسٹن میں 'میراتھن' دوڑ کے دوران میں ہونے والے دو دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق دھماکے دوڑ کے اختتامی پوائنٹ کے نزدیک ایک عمارت میں اس وقت ہوئے جب دوڑ کے شرکا وہاں سے گزر رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق دونوں دھماکے اختتامی لائن کے نزدیک شمال میں واقع ایک عمارت میں چند سیکنڈ کے وقفے سے ہوئے جس کے باعث عمارت کے سامنے کھڑے کئی افراد زمین پر گر گئے۔

دھماکے کی آواز سن کر عمارت کے نزدیک پہنچنے والے کئی ایتھلیس نے خبر رساں اداروں کو بتایا ہے کہ انہوں نے جائے حادثہ پر کئی ایسے زخمیوں کو دیکھا جو اپنے ہاتھ یا پائوں سے محروم ہوچکے تھے۔

بوسٹن پولیس نے دھماکوں کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ جائے حادثہ سے سو سے زائد افراد زخمی حالت میں اسپتال لے جائے گئے جن میں سے چھ کی حالت نازک ہے۔

صدر باراک اوباما نے وائیٹ ہاؤس میں بوسٹن دھماکوں کے حوالے سے ایک مختصر خطاب کیا اور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پورا امریکہ بوسٹن کے شہریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ صدر اوباما نے امریکی شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ بوسٹن میں ہونے والے ان دھماکوں کی مکمل تفتیش کی جائے گی اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

دھماکوں کے بعد امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی، نیویارک اور دیگر بڑے شہروں میں سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔

برطانیہ کے دارالحکومت لندن شہر کی پولیس نے بھی بوسٹن دھماکوں کے بعد اتوار کو ہونے والی 'لندن میراتھن' کے سیکیورٹی انتظامات کا از سرِ نو جائزہ لینے کا اعلان کیاہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق 117 ویں سالانہ 'بوسٹن میراتھن' کا روٹ 42 کلومیٹر طویل تھا اور اس میں 28 ہزار کے لگ بھگ ایتھلیٹ شریک تھے۔

خیال رہے کہ بوسٹن امریکہ کی شمال مشرقی ریاست میسا چوسٹس کا صدر مقام ہے اور یہاں ہر سال ہونے والی میراتھن کا شمار شہر کی روایتی اور اہم ثقافتی سرگرمیوں میں ہوتا ہے جس میں دنیا بھر سے ایتھلیٹ شریک ہوتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG