رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کی فوج کے کیمپ میں دھماکہ، دو کشمیری مزدور ہلاک


فائل فوٹو

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع اننت ناگ میں فوج کے ایک کیمپ میں دھماکے میں دو مقامی مزدور ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

واقعے کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ اننت ناگ شہر کے مضافات میں فوج کے اکیس ایف اے ڈی کیمپ کے اندر اچانک دھماکے میں وہاں کام کرنے والے پانچ مقامی کشمیری زخمی ہوگئے۔

حکام کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر فوجی طبی مرکز لے جایا گیا جہاں سے انہیں اننت ناگ کے سرکاری میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہاں صرف چار زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے دو زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے جب کہ دو کا علاج ہو رہا ہے۔

مارے جانے والے افراد کی شناخت گلزار احمد خان اور فیاض احمد بٹ کے طور پر کی گئی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دھماکہ کیسے ہوا اور کیمپ کے اندر کام کرنے والے مقامی مزدور اس کی زد میں کیسے آئے۔

بھارتی فوج نے اس واقعے کے بارے میں تاحال کوئی بیان نہیں دیا۔

حزب المجاہدین کا کمانڈر جھڑپ میں ہلاک

ادھر ضلع شوپیاں میں پیر کو ایک جھڑپ کے دوراں حفاظتی دستوں نے دو مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سرینگر میں سرکاری حکام نے بتایا کہ شوپیاں کے ایک دور دراز گاؤں ریبن میں ایک گھر میں عسکریت پسندوں چھپے ہونے کی اطلاع موصول ہوئی جس پر بھارتی فوج، مقامی پولیس کے اسپیشل آپرشنز گروپ (ایس او جی) اور بھارت کی مرکزی پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے وسیع علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

حکام کے مطابق آپریشن کے دوران دو طرفہ فائرنگ ہوئی۔ جھڑپ میں دو مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

پولیس نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سب سے بڑی مقامی عسکریت تنظیم حزب المجاہدین کا ایک کمانڈر اشفاق احمد شامل ہے۔

بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر پیر کی صبح نئی دہلی سے اچانک اور غیر متوقع طور پر سرینگر پہنچے۔

عہدیداروں نے بتایا کہ وزیرِ خارجہ کے اس مختصر دورے کا مقصد ایران میں زیرِ تعلیم کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے خاندانوں سے ملاقات کرنا تھا تاکہ ان کو تسلی دی جا سکے۔

واضح رہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے کشمیری طلبہ ایران میں پھنس گئے ہیں۔

سرینگر کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس وقت ایران کے مختلف تعلیمی اداروں میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے 400 سے زائد زیرِ تعلیم ہیں۔

بھارتی وزیرِ خارجہ نے سرینگر میں ان طالبعلموں اور ایران میں موجود کشمیری زائرین کے رشتے داروں کے ساتھ ایک ملاقات کے دوراں انہیں یقین دلایا کہ انہیں واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے کی جارہی کوششوں میں تیزی لائی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG