رسائی کے لنکس

logo-print

پولیو سے متاثرہ مریضوں میں اضافہ، بنوں میں دو اور متاثر


فائل فوٹو

ملک بھر میں پولیو سے متاثرہ تین اور کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے دو کا تعلق خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں سے ہے جس کے بعد بنوں میں پولیو کیسز کی تعداد 16 جبکہ صوبے میں 33 ہو گئی ہے۔

متاثر ہونے والے بچوں کے فضلے کے نمونے جون کیس رسپانس سے پہلے لیے گئے اور تجزیہ کیلئے قومی ادارہ صحت اسلام آباد کو بھجوائے گئے تھے۔ موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق فتح خان خیل کا رہائشی 30 ماہ کا بچہ اور جانی خیل کی 12 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ متاثر ہونے والی بچی کے والدین ویکسین پلانے سے انکاری تھے اور بچی کو معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات بھی نہیں دیے گئے تھے جبکہ دوسرے 30 ماہ کے متاثرہ بچے کی تفصیلی رپورٹ آنا باقی ہے جس سے معلوم ہو گا کہ آیا اس بچے کو پولیو کے قطرے دیے گئے تھے یا اس کے والدین بھی انکاری تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ انکاری والدین مسلسل غفلت کا مظاہرہ کر کے اپنے بچوں کو قصداً معذوری کی طرف د ھکیل رہے ہیں۔ حکومت خیبر پختونخوا نئی حکمت عملی کے تحت انکاری والدین کو بات چیت کے ذریعے اپنے بچوں کو پولیو قطرے پلانے پر قائل کر رہی ہے تاکہ مزید بچے پولیو وائرس کا شکار نہ ہوں۔

ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبرپختونخوا میں نئے کیسز کے حوالے سے ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے ای او سی کے کوآرڈینیٹر کیپٹن (ر) کامران احمد آفریدی نے متاثرہ اضلاع میں فوری طور پر کیس رسپانس مہم چلانے کے احکامات جاری کئے اور تمام تر انتظامات جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

صوبہ میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ہائی رسک اضلاع کے لئے ایک جامعہ حکمت عملی مرتب کی گئی ہے جس میں مرحلہ وار پولیو مہمات چلائے جانے کا فیصلہ کیا گیا جس کا پہلا مرحلہ 15 جولائی سے 18 جولائی، دوسرا مرحلہ 26 اگست سے 29 اگست جبکہ تیسرا اور آخری مرحلہ 16 تا 19 ستمبر کو ہو گا۔

کوآرڈینیٹر ای او سی کیپٹن (ر) کامران احمد آفریدی نے کہا کہ جب تک ہم تمام بچوں تک پولیو ویکسین کی رسائی حاصل نہیں کر لیتے تب تک پولیو کیسز سامنے آتے رہیں گے۔ اس لئے تمام والدین سے بار بار یہ التماس کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین ضرور پلائیں اور کسی بھی منفی پروپیگنڈا کا حصہ نہ بنیں تاکہ پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

پاکستان اور افغانستان نہ صرف دو ہمسایہ ممالک ہیں بلکہ دونوں دنیا کے واحد ممالک ہیں جہاں پر ابھی تک پولیو کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG