رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل کا امارات کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا عندیہ


امارات کے وزیرِ مملکت برائے امور خارجہ کے مطابق اُن کا ملک اپنے فیصلوں میں کسی اور ملک کی مداخلت ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ (فائل فوٹو)

اسرائیل نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے لیے پروازوں کی بحالی کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جب کہ اماراتی حکومت نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس کے اندرونی معاملات اور فیصلوں میں مداخلت سے باز رہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ براہِ راست پروازوں کی بحالی کی تیاری کی جا رہی ہے اور یہ پروازیں سعودی عرب کی فضائی حدود سے گزریں گی۔

انہوں نے کہا کہ پروازوں کی بحالی اسرائیل اور امارات کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا حصہ ہے۔

پیر کو تل ابیب کے بین گورین ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ تل ابیب سے دبئی اور ابوظہبی کے لیے براہِ راست فلائٹس چلائی جائیں گی جس کے بعد پروازوں کا متوقع دورانیہ تین گھنٹے رہ جائے گا۔

اُن کے بقول، "وہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ سیاحت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں وسیع مواقع دیکھ رہے ہیں۔"

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پروازوں کی بحالی کے سلسلے میں مذاکرات کے لیے اسرائیل کا ایک وفد آئندہ چند ہفتوں میں متحدہ عرب امارات جانے کی توقع ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل متحدہ عرب امارات کے لیے براہِ راست پروازوں کے لیے سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کی فضائی حدود اسرائیل کے طیاروں کے لیے بند ہیں۔

اسرائیل سے تعلقات نہ ہونے کے باوجود سعودی عرب نے تل ابیب جانے والی بھارتی پروازوں کو 2018 میں اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔

'ایران ملکی معاملات میں مداخلت سے باز رہے'

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر ایران کی جانب سے تنقید پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امارات کے درمیان امن معاہدہ ایک خود مختار فیصلہ ہے جس کے لیے ایران کی ہدایات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے پیر کو عربی زبان میں کیے گئے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اُن کا ملک اپنے فیصلوں میں مداخلت ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ متحدہ عرب امارات ایران کی دھمکیوں کو مسترد کرتا ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ہفتے کو اپنے خطاب میں کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کر کے 'سنگین غلطی' کی ہے۔

حسن روحانی نے اس معاہدے کو فلسطین سے غداری سے تعبیر کیا تھا۔

حسن روحانی کے اس بیان پر متحدہ عرب امارات نے اتوار کو ابوظہبی میں ایرانی نائب سفیر کو طلب کرکے ایک احتجاجی مراسلہ اُن کے حوالے کیا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایرانی صدر کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔

پیر کو اپنے بیان میں امارات کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ نے مزید کہا کہ امارات-اسرائیل معاہدے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے جب کہ اس سے یو اے ای کے مستقبل کی پوزیشن بھی واضح ہوتی ہے۔

دوسری جانب چھ خلیجی ممالک کی نمائندہ تنظیم 'خلیج تعاون کونسل' کے سیکریٹری جنرل نے اسرائیل امارات امن معاہدے کے بعد ایران کے صدر اور دیگر حکام کی جانب سے سامنے آںے والے بیانات کی مذمت کی ہے۔

امارات-اسرائیل امن معاہدہ کیا ہے؟

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے 13 اگست کو سفارتی تعلقات قائم کرنے کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں اس معاہدے سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا۔

معاہدے کے تحت دونوں ملک آنے والے دنوں میں باہمی تعلقات کے فروغ اور ایک دوسرے کے شہریوں کے میل جول کے لیے سیاحت، مواصلات، ثقافت اور تجارت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دیں گے۔

معاہدے کے بعد متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ اتوار کو باضابطہ طور پر ٹیلی فونرابطے بھی بحال کر دیے ہیں۔

متحدہ عرب امارات پہلا خلیجی عرب ملک ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔

اس سے قبل صرف دو اور عرب ممالک مصر اور اُردن اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کرچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG