رسائی کے لنکس

یوگنڈا: ایبولا وائرس سے ایک اور ہلاکت، کیسز کی تعداد 3000 تک پہنچ گئی


فائل فوٹو
فائل فوٹو

افریقی ملک یوگنڈا میں ایبولا کے مرض میں مبتلا ایک 9 سالہ لڑکی ہلاک ہو گئی جس کے بعد گزشتہ سال اگست میں پھوٹنے والے اس وبائی مرض سے ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

یوگنڈا کے حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا تعلق پڑوسی ملک کانگو سے تھا جو اپنے والد کے ہمراہ سرحد عبور کرکے یوگنڈا پہنچی تھی۔

خبر رساں ادارے اے پی نے یوگنڈا کی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا کہ لڑکی کا ایبولا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد سے اسے تنہائی میں رکھا جا رہا تھا۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایبولا کی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد تین ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

اس کیس کے سامنے آنے کے بعد ان خبروں کو تقویت مل رہی ہے کہ یوگنڈا اور روانڈا میں ایبولا سرحد پار سے منتقل ہو رہا ہے۔ خطے میں واقع سرحدی علاقے غیر محفوظ ہیں اور متعدد افراد رات کے وقت سرحد عبور کر کے ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہو جاتے ہیں۔

دو ماہ قبل جون میں بھی ایک اسی قسم کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں وائرس سے متاثرہ کانگو کا ایک خاندان یوگنڈا میں داخل ہوا تھا۔ کنبے کے دو افراد میں ایبولا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے سبب وہ ہلاک ہو گئے تھے۔

سنہ 2000 کے بعد سے یوگنڈا میں ایبولا وائرس کے متعدد کیس سامنے آ چکے ہیں۔ حکام کے مطابق اس سے قبل کانگو سے تعلق رکھنے والے 4 افراد کو مرض سے بچانے کے لئے کانگو واپس لا کر ویکسین دی گئی تھی۔

مشرقی کانگو میں سنہ 2000 سے اب تک تقریباً 2000 افراد ایبولا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر ہفتے اوسطاً 80 افراد اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔

ایبولا کا مرض ایبولا وائرس سے متاثرہ شخص کے جسم سے نکلنے والے رقیق مادوں مثلاً پسینہ اور پیشاب وغیرہ سے ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی صحت مند فرد ایبولا سے متاثرہ شخص سے ہاتھ ملاتا ہے اور اس دوران اس کا پسینہ صحت مند شخص کے جسم میں پہنچ کر اسے بھی بیمار کر دیتا ہے۔

مشرقی کانگو میں ایبولا سے متاثرہ 2 لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین دی جاچکی ہے جب کہ مرض سے آگاہی اور اس سے بچنے کے لیے مہم بھی سرگرمی سے جاری ہے۔

ایبولا کا وائرس دنیا میں موجود چند خطرناک ترین متعدی بیماریوں میں سے ایک ہے جسے 'ہیموریج فیورز' (گردن توڑ بخار) کی ایک قسم بتایا جاتا ہے۔

ایبولا سے مرنے والے افراد کی لاشیں بھی مرض کو پھیلانے کا سبب بنتی ہیں جس کے باعث ان میتوں کی تدفین صرف حفاظتی لباس پہنے ہوئے امدادی اہلکار ہی کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG