رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ: پاکستانی سفارت کاروں پر سنگین الزامات


فہرست میں سفارتی استثنیٰ رکھنے والے دو پاکستانی اہل کاروں کے نام بھی شامل ہیں جن میں سے ایک پر جنسی زیادتی جب کہ دوسرے پر بچے کے اغوا کا الزام ہے۔

برطانیہ کے دفترِِ خارجہ نے لندن میں تعینات پاکستان سمیت دیگر ملکوں کے سفارت کاروں پر مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

برطانوی اخبار 'انڈیپینڈٹ' کے مطابق غیر ملکی سفارتکاروں کے مبینہ جرائم میں ملوث ہونے کا انکشاف 'فارن اینڈ کامن ویلتھ' (ایف سی او) کی سالانہ رپورٹ برائے 2013ء میں کیا گیا ہے۔

اخبار کے مطابق رپورٹ میں صرف سنگین نوعیت کے الزامات کا ہی ذکر ہے جن کے ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو برطانوی قانون کے تحت 12 ماہ یا اس سے زیادہ کی سزا ہوسکتی ہے۔

برطانوی دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق اس فہرست میں سفارتی استثنیٰ رکھنے والے دو پاکستانی سفارتی اہل کاروں کے نام بھی شامل ہیں جن میں سے ایک پر جنسی زیادتی جب کہ دوسرے پر بچے کے اغوا کا الزام ہے۔

'ایف سی او' کے وزیر مارک سمنڈز کے مطابق برطانوی دفتر خارجہ نے سنگین مقدمات کی تفتیش کے لیے پاکستان سے ان سفارت اہل کاروں کا استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کی تھی جس پر پاکستانی حکومت نے ایک کیس میں جزوی طور پر استثنیٰ واپس لے لیا ہے۔

مارک سمنڈز نے منگل کو برطانوی پارلیمان کے سامنے ایک تحریری رپورٹ پیش کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ رپورٹ میں برطانیہ میں موجود غیر ملکی سفارتی عملے کے اہلکاروں کے 14 ایسے سنگین جرائم کا انکشاف کیا گیا ہے جنھیں سفارتی استثنیٰ کی وجہ سے برطانوی قانون کے مطابق سزا نہیں دی جاسکی۔

رپورٹ میں چھ غیر ملکی سفارتی اہلکاروں پر شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے کے الزامات ہیں جن میں سے دو کا تعلق سعودی سفارت خانے سے ہے۔ دیگر ملزمان میں بیلاروس،کویت اور زیمبیا کے سفارت خانوں کا ایک، ایک اہلکار شامل ہے۔

مارک سمنڈز نے ارکانِ پارلیمان کو بتایا کہ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے 'سفارتی تحفظ گروپ' نے حکومت کو ان 14 مقدمات کے بارے میں متنبہ کیا تھا۔

برطانوی وزیر کے مطابق اس وقت برطانیہ میں 21,500 سفارتی اہلکار قانونی کارروائی سے استثنیٰ رکھتے ہیں جن کی اکثریت برطانوی قوانین کی پاسداری کر رہی ہے۔

مارک سمنڈز کے بقول یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں سفارتی اہلکاروں کے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کی شرح دیگر ملکوں کے مقابلے میں کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کے تمام الزامات کو سنجیدگی سے دیکھا گیا ہے اور اس سلسلے میں گزشتہ برس 'ایف سی او' نے پانچ متعلقہ حکومتوں سے اپنے اہلکاروں کا استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان میں جنسی زیادتی اور بچے کے اغوا کے الزام میں ملوث پاکستانی سفارت کاروں کا استثنیٰ منسوخ کرنے کی درخواست بھی شامل تھی۔

پاکستان کی جانب سے ایک سفارتی اہلکار کو حاصل استثنیٰ جزوی طور پر ختم کرنے کے بعد پولیس ان کے خلاف عائد الزام کی چھان بین مکمل کرسکے گی۔

برطانوی وزیر کے مطابق پاکستان نے دو سفارتی اہلکاروں کو رضا کارانہ طور پر واپس بلا لیا ہے، چوتھے سفارتکار کو برطانوی حکومت نے ملک چھوڑنے کا کہا ہے جب کہ پانچویں سفارت کار کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔

سنہ 1961 میں طے پانے والے 'ویانا کنونشن' کے سفارتی تعلقات سے متعلق معاہدے کے تحت جن سفارت کاروں کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے میزبان ملک کے قوانین کی پاسدرای کریں گے۔

لیکن کسی اہلکار کے خلاف ناقابلِ تردید ثبوت ہونے کی صورت میں میزبان ملک متعلقہ حکومت سے استثنیٰ منسوخ کرنے کی درخواست کرسکتا ہے۔ اگر متعلقہ حکومت کی جانب سے ردعمل کا اظہار نہیں کیا جاتا ہے تو سفارت کار کو فوری طور پر ملک سے نکل جانے کا حکم دیا جاتا ہے۔

برطانوی وزیر نے پارلیمان کو بتایا کہ 2002ء میں ایک برطانوی تاجر گیری نیواونز کو سعودی عرب کے قانون کے خلاف غیر قانونی شراب خانہ چلانے پر آٹھ سو کوڑوں، آٹھ سال قید اور چار لاکھ پونڈ کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

اس کے برعکس سعودی شہزادہ سعود بن عبد العزیز بن ناصر السعود کو لندن کے ایک ہوٹل میں اپنے ایک نوکر کو قتل کرنے کے جرم میں برطانوی قانون کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن انہیں صرف تین سال قید کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

برطانوی اخبار کے مطابق لندن کے سعودی اور پاکستانی سفارت خانے ان الزامات پر تبصرہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG