رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ: لیبر پارٹی کی 'غیر معمولی' خاتون امیدوار ناز شاہ


گذشتہ روز انتخابی مہم کے آغاز پر ناز شاہ کی جانب سے ویب سائٹ 'اربن ایکو' پر ایک کھلا خط شائع ہوا ہے جسے سوشل میڈیا میں بے حد سراہا گیا ہے۔

برطانوی سیاسی جماعت لیبر پارٹی نے مئی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بریڈ فورڈ سے کیرئیر سیاستدان کے بجائے پاکستانی نژاد برطانوی قدامت پسند گھرانے سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن ناز شاہ کو ریسپیکٹ پارٹی کے امیدوار جارج گیلوے جیسے منجھے ہوئے سیاست دان کے خلاف پارلیمانی امیداوار کے طور پر کھڑا کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔

41 سالہ ناز شاہ تین بچوں کی والدہ ہیں ان کا بچپن بریڈ فورڈ میں انتہائی غربت میں گزرا ہے۔ وہ معذوروں کے حقوق کی وکیل ہیں اور ذہنی صحت سے وابستہ ایک فلاحی ادارے کی سربراہ بھی، اگرچہ ان کی سیاسی تعلیم کم نظریاتی ہے اور ان کے پاس مخالف امیداوار کی طرح فلسفہ، معاشیات اور سیاست میں کیمبرج یا آکسفورڈ کی اعلیِٰ تعلیمی ڈگری نہیں ہے لیکن ان کی سیاسی زندگی کا آغاز اسی وقت سے ہوگیا تھا جب انھوں نے اپنی والدہ کو جیل کی سلاخوں سے باہر نکالنے کے لیے 12 برس تک ایک مہم چلائی اور ان کی سزا کو چودہ برس تک محدود کرنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

ناز شاہ کی والدہ زہرا شاہ کو ایک منشیات فروش بدکار شخص کے قتل کے جرم میں 20 برس کی قید کی سزا ہوئی تھی جنھیں 14 سال جیل کاٹنے کے بعد 2000 میں رہائی ملی تھی۔

گذشتہ روز انتخابی مہم کے آغاز پر ناز شاہ کی جانب سے ویب سائٹ اربن ایکو پر ایک کھلا خط شائع ہوا ہے جسے سوشل میڈیا میں بے حد سراہا گیا ہے۔

اس کھلےخط میں محترمہ شاہ لکھتی ہیں کہ صحافی مجھ سے سوال کر رہے ہیں کہ میرا سیاست میں کیسے آنا ہوا؟ ان کے لیے میرا جواب یہ ہے کہ یہ میری زندگی کے بھیانک واقعات تھے جن سے میری سیاسی کیریئر کی صورت گری میں مدد ملی ہے۔

ناز شاہ نے اپنی زندگی کی کہانی کے تلخ حقائق بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آج وہ جو کچھ ہیں صرف اپنی والدہ کی وجہ سے ہیں اور یہ ان کی نہیں بلکہ ان کی والدہ کےخوابوں کی جیت ہے جو معاشرے میں پھر سے اپنے خاندان کے لیے عزت چاہتی تھیں، انھوں نے اپنی بیٹیوں کو ایک ظالم اور بدکار شخص کی ہوس سے بچانے کے لیے اس کا قتل کیا تھا لیکن وہ عدالت کے سامنےخاندان کی بدنامی کے خوف سے چپ رہیں اور عدالت نے انھیں مجرم ٹھہرا دیا انھیں بیس سال کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا۔

"میرے والد نے ہمارے خاندان کو اس وقت چھوڑدیا تھا جب میری عمر 6 برس تھی اس کے بعد ہماری زندگی انتہائی غربت کا شکار ہوگئی ایسے میں ایک اعظم نامی شخص نے ہمیں سہارا دیا اور مکان دلوانے کی پیشکش کی لیکن اس کے بدلے میں اس کی نظریں میری ماں پر تھیں اور اس کے بعد مجھ پر، میری ماں نے مجھے اس شخص سے بچانے کے لیے 12 سال کی عمر میں پاکستان بھیج دیا گیا جہاں میری 15 سال کی عمر میں جبری شادی ہوئی لیکن جب میری دوسری بہن کو بچانے کی بات آئی تو میری ماں نےایک روز اسے زہر دے کر مار دیا۔"

انھوں نے کہا کہ یہ خبر اخباروں کی شہ سرخیوں میں رہی "مجھے لگا کہ اب میں اپنی والدہ اور بہن بھائی کے لیے ماں ہوں، گھر کیسے چلایا جاتا ہے مجھے نہیں معلوم تھا اس دورا ن میری بہن نے خود کشی کرنے کی کوشش کی جبکہ میرے چھوٹا بھائی کو اسکول میں طعنے دیے جاتے تھے لیکن اس وقت ہمیں کہیں سے کوئی حمایت نہیں مل رہی تھی۔"

انھوں نے پہلی ملازمت ایک مقامی اسپتال کے لیے لانڈری کی خدمات کے طور پر شروع کی اور ایک بالغ طالب علم کی حیثیت سے انھوں نے جی سی ایس ای ایس کا امتحان پاس کیا اور علاقے میں سماجی کارکن کی حیثیت سے کام شروع کر دیا اور این ایچ ایس میں ملازمت حاصل کی۔

نازشاہ نے کہا کہ انھیں بریڈ فورڈ سے انتخاب لڑنے کا موقع مل رہا ہے جہاں وہ پیدا ہوئی ہیں اور پلی بڑھی ہیں یہاں ان کا گھر ہے جہاں وہ اپنے خاندان کی پرورش کر رہی ہیں۔ "میں اسی قدامت پسند ماحول میں مشکلات کا سامنا کرتی رہی ہوں۔"

سیاسی ناقدین کہتے ہیں کہ لیبر کے لیے بریڈ فورڈ ایک اہم نشست رہی ہے لیکن ان کے لیے برداری ازم کی سیاست اب کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی ہے جہاں 2012 کے ضمنی انتخابات میں لیبر کے امیدوار ایڈ ملی بینڈ نے جارج گیلوے سے شکست کھانے کے بعد کہا تھا کہ وہ اس ہار سے سبق سیکھیں گے۔

فرسودہ روایات کے خلاف جیت حاصل کرنے والے امیدوار جارج گیلوے کو عام انتخابات میں پارلیمانی امیداوار کی حیثیت سے مضبوط خیال کیا جارہا ہے دوسری جانب محترمہ شاہ اپنی غیرمعمولی جدوجہد کی وجہ سے لیبر کی ایک مقبول امیداور سمجی جارہی ہیں لیکن ان کا ماضی باز گشت کی طرح ان کےساتھ ہے جس کا مخالف امیدوار کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG