رسائی کے لنکس

logo-print

شام جانے والی لڑکیوں کو روکا جا سکتا تھا: برطانوی پولیس


لڑکیوں کے خاندانوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے کہ پولیس نے انہیں ان کی بچیوں سے متعلق تفتیش سے براہ راست آگاہ نہیں کیا تھا۔

برطانوی پولیس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ ان تین نو عمر لڑکیوں کو اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر شام میں داعش میں ان کی شمولیت کو روکنے کیے لیے ممکنہ طور مزید(کوشش ) کر سکتی تھی۔

پولیس نے دسمبر میں ان تینوں لڑکیوں سے اس وقت بات کی تھی جب وہ اسکول سے ان کی ایک دوست کے لاپتا ہونے سے متعلق تفتیش کر رہی تھی جو پہلے ہی شام جا چکی تھی۔

لڑکیوں کے خاندانوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے کہ پولیس نے انہیں ان کی بچیوں سے متعلق تفتیش سے براہ راست آگاہ نہیں کیا تھا۔

لند ن کی میٹروپولٹن پولیس سروس جسے عام طور پر اسکاٹ لینڈ یارڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مناسب تھا کہ ان نو عمر لڑکیوں سے بات چیت کرنے کی اجازت کے لیے لکھے گئے خطوط براہ راست ان کے والدین کو دیے جاتے۔ اس کی بجائے تفتیش کاروں نے یہ خطوط لڑکیوں کو گھر لے جانے کے لیے دیے جو انہوں یہ (اپنے والدین کو) نہ دکھائے۔

16 سالہ خدیجہ سلطانہ، عامرہ عباس اور شمیم بیگم جن دونوں کی عمر 15 سال ہیں، فرور ی میں اپنے گھروں سے غائب ہو کر لندن سے پرواز کے ذریعے استنبول پہنچ گئیں۔ اب ان کے بارے میں خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ شام میں ہیں۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ کے بیان کے مطابق اس وقت ایسا نظر نہیں آتا تھا کہ لڑکیوں کو خود کوئی خطرہ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ " ہم اسکول اور مقامی تعلیمی اتھارٹی کے ساتھ اس جاری تفتیش سے متعلق رابطے میں ہیں"۔

تاہم لڑکیوں کے خاندان کے ارکان کا کہنا ہے کہ اگر ان کو لڑکیوں کی دوست سے متعلق صورت حال کا علم ہوتا تو وہ اس میں مداخلت کر سکتے تھے اور وہ ان کو برطانیہ چھوڑنے سے روک سکتے تھے۔

ہزاروں غیرملکی جن کا تعلق 80 سے زائد ممالک سے ہے، شام اور عراق میں داعش اور دوسرے شدت پسند گروپوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ سکیورٹی عہدیداروں کے اندازے کے مطابق 500 یا اس سے زائد افراد صرف برطانیہ سے اس لڑائی میں شامل ہونے کے لیے شام جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG