رسائی کے لنکس

logo-print

کوہ کنابلو پربرہنہ تصاویر کامعاملہ، برطانیہ کی سفری ہدایات پر نظر ثانی


ملائیشیا کے لیے موجودہ سفری ہدایات کے مطابق سیاح تمام اوقات میں مقامی روایات، رسم رواج، قوانین اور مذہب کا احترام کریں گے اور خاص طور پر اپنے طرز عمل سے آگاہ رہیں گے۔

برطانوی خاتون ایلینور ہاکنز مغربی سیاحوں کی اس ٹیم کا حصہ تھی، جس نے جنوب مشرقی ایشیا کی بلند ترین چوٹی کوہ کنابلو پربرہنہ تصاویر لی تھیں اور ان کے اس نامناسب عمل کو قبائل کی جانب سے مقدس پہاڑ کی توہین اور زلزلہ کا سبب بتایا گیا تھا۔

ملائیشیا میں کنابلو کے پہاڑ پر 6 جون کو آنے والے5.9 اعشاریہ کی شدت کے زلزلہ سے وہاں 18سیاح ہلاک اور متعدد زخمی و لاپتا ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سباہ کے نائب وزیر اعلی جوزف پیرن کیٹنگن نے کہا تھا سیاحوں نے مقدس پہاڑ کی توہین کی ہے، اور اب پہاڑ پر رہنے والی روحوں کو خوش کرنے کے لیے ایک خاص رسم ادا کی جائے گی ۔

23سالہ ایلینور ہاکنز سمیت چار سیاحوں کو مقدس پہاڑ کی بےحرمتی کرنے کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ عریانیت کا جرم ثابت ہو جانے کے بعد عدالت نے انھیں جرمانہ اور فوری طور پر ملک بدری کا حکم سنایا تھا۔

اتوار کو وطن واپسی کے بعد ایلینور نے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ میرا رویہ بے وقوفانہ تھا اور میں واقعی اس حرکت پرشرمسار ہوں۔

ساوتھ ہمپٹن یونیورسٹی کی طالبہ ایلینور ہاکنز نےاپنے گھر ڈربی شائر پہنچنے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ گھر پہنچ کر سکون ملا ہے اور میں اپنے بے وقوفانہ عمل جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو تکلیف پہینچی ہے اس پر واقعی معافی کی طلبگار ہوں۔

اخبار گارڈین کے مطابق برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے تناظر میں سفری ہدایات مرتب کرنے والی ٹیم ملائیشیا کے ہم منصب سے بات چیت کرنے جارہی ہے جس کے بعدموجودہ ہدایات پر نظر ثانی کی جائے گی اور اس واقعہ کا ذکر ایک انتباہ کے طور پر کیا جاسکتا ہے۔

ملائیشیا کے لیے موجودہ سفری ہدایات کے مطابق سیاح تمام اوقات میں مقامی روایات، رسم رواج، قوانین اور مذہب کا احترام کریں گے اور خاص طور پر اپنے طرز عمل سے آگاہ رہیں گے تاکہ ان کا رویہ کسی کی دل آزاری کا سبب نا بن سکے۔

سفری ہدایات میں مزید کہا گیا ہے کہ آپ کو مہذب لباس پہننا چاہیئے اور خاص طور پر قدامت پسند اور دیہی علاقوں میں جب دورہ کریں۔

مس ہاکنز ایروناٹیکل انجنیئرنگ میں اپنی ماسٹرز کی ڈگری مکمل کرچکی ہے اور جنوری سے جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کے دورے پر تھیں، انھوں نے ہانگ کانگ، ویت نام اور ملائیشیا کے سفر کی منصوبہ بندی کی تھی۔

سباہ کے سیاحت کے وزیر مسودی مینجوئین نے ذرائع کو بتایا کہ سیاحوں کی اس حرکت سے خاص طور پرسباہ کے لوگوں کو تکیلف پہنچی ہے، یقیناً انھیں زلزلہ کے الزام میں حراست میں نہیں لیا گیا ہے بلکہ سیاحوں کے اعمال کی وجہ سے زلزلہ کے خیال کو غلط سمجھا گیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ عمل سباہ کے ایک بڑے قبیلے کدازن دسن کے خلاف تھا جو سباہ کی ریاست کی آبادی کا تیس فیصد سے زیادہ ہیں۔

ادھر ایلینور سمیت مقدس پہاڑ پر غیر اخلاقی حرکت کے مرتکب سیاحوں کی واپسی کی خبر پر قبائل کی جانب سے غم وغصے کا اظہار کیا گیا ہے جن کا کہنا ہے کہ انھیں ان کے کئے کی سزا ملنی چاہیئے تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاحوں کو مقامی عدالت میں اس مقدمے کا سامنا کرنا چاہیئے ۔

نور اذلان جو اس سیاح ٹیم کے گائیڈ تھے نے کہا کہ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا گیا ہے انھیں واپس ان کے ملک بھیج دیا گیا ہے جبکہ انھیں ملائیشیا بھیجا جانا چاہیئے تھا۔

سابقہ اسکول ہیڈ گرل ہاکنز سمیت دس ٹریکرز نے 30 مئی کو 13.435 فٹ بلند پہاڑ کی چوٹی سے قریب پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ نامناسب حالت میں تصاویر لی تھیں اس کے باوجود کہ انھیں گائیڈ نے مقدس پہاڑ پر شور و غل کرنے اور اس حرکت سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ یہ تصاویر بعد میں سوشل میڈیا پر آگئیں، جس پر مقامی افراد مشتعل ہو گئے۔

عدالت نے فرد جرم عائد کرتے ہوئے ان پر 5000 رنگٹ ملائیشیا کرنسی میں جرمانہ عائد کیا تھا جبکہ انھیں تین روز تک تفتیش کے لیے حراست میں رکھا گیا تھا ۔

ایلینور کی والدہ روتھ نے اتوار کو کہا کہ ان کی بیٹی کو اس کے نامناسب رویہ کے لیے ملائیشیا حکام سے سزا مل چکی ہے اور اب یہ مقدمہ یہیں ختم ہو گیا ہے۔

ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشہور مقامات پر برہنہ حالت میں تصاویر لینا اور اسے سوشل ویب سائٹ پر پوسٹ کرنا ایک انٹرنیٹ رجحان بنتا جارہا ہے۔

کوہ کنابلو کو کدزان دسن کے قبیلے کی طرف سے مقدس سمجھا جاتا ہے جن کا عقیدہ ہے کہ یہ پہاڑ روحوں کے آرام کی جگہ ہے۔

قبائل کی جانب سے مغربی سیاحوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ پہاڑ کی روحیں غیض و غضب میں ہیں اس سے بچنے کے لیے سوگت کا جرمانہ یا دس بھینسوں کی قربانی کر نی ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG