رسائی کے لنکس

logo-print

امیر برطانویوں کی دولت غریبوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے: رپورٹ


برطانیہ کے دس فیصد امیرترین گھرانوں کی مجموعی دولت میں 2012سے 2014 کے درمیان 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے برعکس برطانیہ کے 50 فیصد غریب گھرانوں کی دولت میں اسی مدت میں 7فیصد اضافہ ہوا ۔

برطانوی قومی شماریات کے دفتر کی ایک تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے برطانیہ تیزی سے ایک غیر مساوی معاشرہ بنتا جا رہا ہے جہاں ملک کے امیر ترین افراد غریبوں کےمقابلے میں تین گنا تیزی سے دولت مند ہو رہے ہیں۔

قومی شماریات کے دفتر ’او این ایس‘ کی طرف سے جمعے کو جاری ہونے والی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کے دس فیصد امیر ترین گھرانوں کی مجموعی دولت میں 2012سے 2014 کے درمیان 21 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔

اس کے برعکس سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ برطانیہ کے 50 فیصد غریب گھرانوں کی دولت میں اسی مدت میں صرف 7فیصد اضافہ ہوا۔

دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح برطانیہ میں عدم مساوات ایک اہم سیاسی موضوع ہے جہاں اب بھی 2008/09 کی کساد بازاری کے اثرات کو محسوس کیا جا ہے۔

ادھر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی طرف سے روزگار کی بلند سطح اور ترقی یافتہ معیشتوں کے درمیان تیز رفتار ترقی کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ ملک بھر میں لوگوں کا معیار زندگی پہلے سے بہتر ہوا ہے۔

تاہم حزب مخالف جماعت لیبر کی طرف سے حکومت پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ حکومت کی طرف سے خسارے کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کا سب سے بڑا بوجھ غریب عوام کے کندھوں پر ہے ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں 2012 سے 2014 کے درمیان کل گھریلو دولت میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے جو اب 11.1ٹریلین پاونڈ تک پہنچ چکی ہے ۔

رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دولت کی تقسیم امیروں کی طرف سے زیادہ تیزی سے ہوئی ہے اور ملک کے دس فیصد امیر ترین افراد ملک کی کل دولت کا 45 فیصد پر کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔

اسی طرح دس فیصد غریب گھرانے ملک کی کل دولت میں سے صرف ایک فیصد کے مالک ہیں۔

چارٹرڈ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کی طرف سے جمعے ہی کے روز جاری ہونے والی ایک سروے رپورٹ نے برطانیہ میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے خدشات کو مزید مستحکم کیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ہر 10 میں سے 7 برطانوی ملازمین سمجھتے ہیں کہ ان کے کمپنی کے ’سی ای او‘ کی تنخواہ بہت زیادہ ہے جب کہ، زیادہ تر ملازمین کا کہنا تھا کہ انھیں یہ بات زیادہ اچھا کام کرنے سے روکتی ہے ۔

لندن کے ارد گرد دولت کا ارتکاز طویل عرصے سے برطانیہ کی معیشت کے استحکام کو ظاہر کرتا ہے جبکہ رپورٹ میں اس میں تبدیلی کےحوالے سے کوئی چھوٹی سی نشانی نظر نہیں آتی ہے۔

خاص طور پر لندن کے متوسط طبقے کے گھرانوں کی دولت میں بڑا اضافہ ہوا ہے،جن کی دولت میں 2012سے 2014کے درمیان 14 فیصد اضافہ ہوا ہے اس کے بعد، اسکاٹش گھرانوں کی پینشن کی دولت میں سب سے بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے ۔

جبکہ شمالی برطانیہ میں یارکشائر اور ہمبرکاونٹی کے متوسط طبقے کے گھرانوں کی دولت میں 7 فیصد کمی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جنوب مشرقی برطانیہ میں رہنے والے ہر 5 میں سے ایک سے زائد گھرانوں کی مجموعی دولت کا تخمینہ دس لاکھ پاونڈ ہے۔ جبکہ اس کے برعکس شمالی برطانیہ کےہر 50 گھرانوں میں سے ایک گھرانہ دس لاکھ پاونڈ دولت کا مالک ہے ۔

اسی صورت حال کے تناظر میں برطانوی وزیر خزانہ جارج اوسبورن شمالی برطانیہ میں اقتصادی ترقی پیدا کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششوں کو تیز کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG