رسائی کے لنکس

logo-print

روس نے مشرقی یوکرین میں نو ہزار فوجی تعینات کیے، کیئف کا الزام


نیٹو کے سیکرٹری جنرل سٹولٹنبرگ کا بھی کہنا تھا کہ نیٹو کو مشرقی یوکرین میں بڑھتی ہوئی لڑائی پر "شدید تحفظات" ہیں اور ان کے بقول ماسکو علیحدگی پسندوں کی حمایت ختم کرے۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے یوکرین کی سرزمین پر نو ہزار فوجی اور پانچ سو ٹینک تعینات کیے ہیں اور کیئف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ماسکو انھیں واپس بلا کر منسک کے جنگ بندی معاہدے پر عمل کرے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے پوروشنکو نے ماسکو پر یہ الزام کیا اور کہا کہ روس کی طرف سے بھاری توپ خانہ بھی تعینات کیا گیا ہے۔

ادھر برسلز میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل جنز سٹولٹنبرگ کا کہنا تھا کہ اتحاد نے دیکھا تھا کہ روسی فوجیں یوکرین میں کئی ماہ سے موجود ہیں اور ساتھ ہی ساتھ "قابل ذکر حد تک" بھاری فوجی سازو سامان بھی علاقے میں بھیجا ہے۔

سٹولٹنبرگ کا کہنا تھا کہ نیٹو کو مشرقی یوکرین میں بڑھتی ہوئی لڑائی پر "شدید تحفظات" ہیں اور ان کے بقول ماسکو علیحدگی پسندوں کی حمایت ختم کرے۔

امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری نے بھی کیئف کی موقف کی تائید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ روس نواز علیحدگی پسندوں نے مشرقی یوکرین میں منسک معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے "ایک بڑے رقبے پر قبضہ کر کے" نئی لڑائی شروع کر رکھی ہے۔

بدھ کو واشنگٹن میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈیریکا موگیرینی کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے جان کیری نے نئی لڑائی کو " انتباہی صورتحال" قرار دیتے ہوئے کہا کہ باغیوں نے گزشتہ ستمبر میں ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اور موگیرینی اس بات پر متفق ہیں کہ یوکرین کی منتشر اقتصادیات کو بحال کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG