رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین میں روسی کارروائی، ’جارحیت‘ کے مترادف: بائیڈن


کئیف میں ہونے والے مذاکرات سے قبل، وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدے دار نے کہا ہے کہ جمعے کی ملاقاتوں کے دوران، بائیڈن صدر پوروشنکو اور وزیر اعظم آرسنی یاتسنیوک کو بتائیں گے کہ ’ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں‘

امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے جمعے کے روز کئیف میں صدر پیترو پوروشنکو کے ساتھ ملاقات کے بعد، ایک بیان میں یوکرین کے خلاف روسی ’جارحیت‘ کی مذمت کی۔

بائیڈن نے کہا کہ اُنھوں نے مسٹر پوروشنکو کے ساتھ روسی فوجی مداخلت کے نتیجے میں ’یوکرین کے اقتدارِ اعلیٰ اور علاقائی یکجہتی کو لاحق خطرات‘ کے معاملے پر گفتگو کی۔

اُنھوں نےمزید کہا کہ ’اکیسویں صدی میں ملکوں کے لیے یہ بات ناقابلِ قبول ہوگی کہ یورپ یا کہیں اور، زبردستی سرحدیں دوبارہ تشکیل کرنے کی کوشش کی جائے‘۔

نائب صدر نے کہا کہ، یوکرین میں ہونے والی روسی کارروائیاں ’بین الاقوامی نظام کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔‘

یوکرین کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کرنے کے لیے، بائیڈن یوکرین کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں، جو روس حامی بغاوت کے خلاف نبردآزما ہے۔

روس یہ الزامات مسترد کرتا رہا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین کے علیحدگی پسندوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے، اور روسی فوجوں کے ہمراہ لڑنے والوں کو رضاکار قرار دیتا ہے۔


کئیف میں ہونے والے مذاکرات سے قبل، وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدے دار نے کہا ہے کہ جمعے کی ملاقاتوں کے دوران، بائیڈن صدر پوروشنکو اور وزیر اعظم آرسنی یاتسنیوک کو بتائیں گے کہ ’ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔

بائیڈن یہ دورہ ایسے وقت کر رہے ہیں، جب امریکہ یوکرین کی فوج کو اسلحہ فراہم کرنے کے معاملے پر تذبذب کا شکار ہے، جب کہ کئی بار یوں محسوس ہوتا ہے کہ لڑائی میں باغی حاوی ہو رہے ہیں۔

بائیڈن کے دورے میں، وائس آف امریکہ کی نمائندہ، مروزالووا گونزے بھی اُن کے ہمراہ سفر کر رہی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ یوکرین کو توقع ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کو اس بات پر قائل کر لے گا کہ اُسے ضرر رساں اور دفاعی قسم کی امداد فراہم کرنے میں درپیش ہچکچاہٹ دور ہوجائے گی۔

اِسی ہفتے، امریکی صدر براک اوباما نے ایک اہل کار کو نامزد کیا ہے جو محکمہٴ خارجہ میں دوسرے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہونے والے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے وائٹ ہاؤس کو چاہیئے کہ یوکرین کو ضرر رساں فوجی ہتھیار فراہم کرنے پر غور کرے۔

ٹونی بلِنکن نے سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کو بتایا کہ یوکرین کی فوج کو ہتھیار دینے سے روس مجبور ہوگا کہ باغیوں کی حمایت کے اپنے مبینہ کردار پر نظرِ ثانی کرے۔


جمعرات کو، وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہل کار نے کہا ہے کہ امریکہ نہیں سمجھتا کہ اس بحران کا فوجی حل ممکن ہے۔ اس تنازع کا آغاز اپریل میں ہوا، جس میں اب تک 4300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG