رسائی کے لنکس

logo-print

بھاری اسلحہ دوبارہ محاذ پر بھیجنے کے لیے تیار ہیں: پوروشنکو


یوکرین کے صدر نے کہا کہ معاہدے کے باوجود مشرق کی طرف سے فوج کشی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ ان کا اشارہ روس کی طرف تھا۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے کہا ہے کہ ان کی فوج مشرقی یوکرین میں اگلے مورچوں پر بھارتی اسلحہ واپس لے جانے کے لیے تیار ہے کیونکہ ان کے بقول روس نواز باغیوں کی طرف سے رواں ماہ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں۔

جمعہ کو پوروشنکو کا کہنا تھا کہ یوکرین کی فوج "کسی بھی لمحے دشمن کے خلاف کھڑی ہونے کے لیے تیار ہے۔"

انھوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے باوجود مشرق کی طرف سے فوج کشی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ ان کا اشارہ روس کی طرف تھا۔

روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے جمعہ کو بتایا کہ مشرقی یوکرین سے بھاری اسلحہ کے انخلا میں پیش رفت ہوئی ہے۔ انھوں نے معاہدے کے دیگر پہلوؤں بشمول انسانی حقوق کے معاملات اور ڈونباس کے خطے میں آئینی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

جمعرات کو یوکرین کے فوجیوں نے جنگ سے تباہ حال قصبے ڈیبالٹسیو کے قریب سے توپ خانے کو ہٹانا شروع کیا اور اس عمل کی نگرانی یورپی مبصرین کر رہے ہیں۔

اس مہینے کے وسط میں یوکرین، روس، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے ایک جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت مشرقی یوکرین کے اگلے مورچوں سے روس نواز باغی اور یوکرین کی فورسز کو بھاری اسلحہ کو واپس لے جانا ہے۔

گزشتہ سال اپریل سے مشرقی خطے میں ہونے والی لڑائی میں لگ بھگ پانچ ہزار چار سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG