رسائی کے لنکس

logo-print

ملائیشین طیارہ میزائل حملے کا نشانہ بنا: صدر اوباما


صدر اوباما نے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ مسافر طیارہ میزائل لگنے سے گر کر تباہ ہوا البتہ یہ تعین کرنا باقی ہے کہ "کس فرد، یا گروپ" کے کہنے پر مسافر طیارے کو گرایا گیا۔

مشرقی یوکرین میں ملیشیائی مسافر طیارے کے گر کر تباہ ہونے کے معاملے کی بین الاقوامی تفتیش کی ضرورت اور یوکرین میں فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے، امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ حقائق کا حتمی علم تب ہی ہوگا جب چھان بین کا عمل مکمل ہوگا۔

لیکن، اُن کا کہنا تھا کہ، ایک بات طے ہے کہ یہ مسافر طیارہ میزائل لگنے سے تباہ ہوا، جو ظالمانہ دہشت گردی ہے۔

جمعے کو وائٹ ہاؤس سے یوکرین پر اپنے براہ راست بیان میں، صدر اوباما نے کہا کہ روس اپنی ذمہ داری سے جان نہیں چھڑا سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ ملائیشیائی مسافر طیارے میں سوار 298 افراد کی بہیمانہ ہلاکت ’ناقابل بیان سطح کی ظالمانہ‘ کارروائی ہے۔

بقول اُن کے، ’یہ ایک عالمی المیہ ہے، ناقابل یقین بات ہے۔ اس کی فوری بین الاقوامی چھان بین ہونی چاہیئے کہ حتمی حقائق سامنے آسکیں‘۔

امریکی صدر نے کہا کہ شواہد سے پتا چلتا ہے کہ اس مسافر جہاز کو ’زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل لگا، جسے اُس علاقے سے داغا گیا جو روس نواز علیحدگی پسندوں کے کنٹرول میں ہے‘۔

اُنھوں نے اس واقع کی بین الاقوامی تفتیش کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ روس اور علیحدگی پسندوں کو چاہیئے کہ فوری جنگ بندی پر عمل پیرا ہوں۔

صدر نے کہا کہ اس بہیمانہ واقعے سے اس بات کی ضرورت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یوکرین میں فوری امن اور سلامتی کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔

صدر نے کہا کہ یوکرین کی جانب سے مشرقی یوکرین کے اُن علاقوں میں یکطرفہ جنگ بندی کی گئی تھی، جسے روس نواز علیحدگی پسندوں نے ناکام بنایا۔

روس، علیحدگی پسندوں اور یوکرین پر لازم ہے کہ فوری جنگ بندی کا اہتمام ہو اور علاقے میں امن و استحکام جاری ہو، جس کے اثرات اب یورپ کے علاوہ باقی دنیا پر بھی پڑ رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ روس ہی یوکرین کے علیحدگی پسندوں کی مدد کر رہا ہے، اُنھیں کو مالی امداد، تربیت اور جدید اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ ’اگر صدر پیوٹن یہ طے کرلیں کہ علیحدگی پسندوں کو امداد، تربیت و جدید اسلحہ نہ ملے، تو وہ مذاکرات کی میز کی طرف آئیں گے اور تنازع کا سیاسی حل تلاش ہو سکے گا۔ پیوٹن اپنی ذمہ داری نبھائیں‘۔

صدر اوباما نے کہا کہ ایف بی آئی اور امریکہ شہری ہوابازی کے اہل کار یوکرین روانہ ہو چکے ہیں، تاکہ تفتیش ہو، اصل حقائق سامنے آئیں۔

اُنھوں نے کہا کہ دنیا کی نظریں مشرقی یرکرین کے بحران پر لگی ہوئی ہیں۔

صدر نے کہا کہ ایک طرف روس اپنی ذمہ داری نباھنے اور ٹھوس اقدام کرنے سے ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے، جب کہ اُسے اپنے خلاف تعزیرات پر برہمی ہے۔

صدر اوباما نے کہا ہےکہ ملائیشین ایرلائنز کے طیارے میں ایک امریکی شہری سفر کر رہا تھا، جن کی شناخت کوئن لُکاس شنزمن کے طور پر کی گئی ہے۔

اِس سے قبل، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب میں امریکی سفیر، سمنتھا پاور نے کہا کہ طیارے کو مار گرانے میں استعمال ہونے والا میزائل نظام مشرقی یوکرین کے اُس مقام سے کیا گیا جہاں علیحدگی پسندوں کا قبضہ ہے۔

اُنھوں نے اس طرف توجہ دلائی کہ یہ ناممکن ہے کہ علیحدگی پسندوں نے ماہر اہل کاروں کی مدد کے بغیر اِسے چلایا ہو۔ اس سلسلے میں، اُن کا کہنا تھا کہ روس کی طرف سے ملنے والی تکنیکی اعانت کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

XS
SM
MD
LG