رسائی کے لنکس

logo-print

روس تیسری جنگِ عظیم کا آغاز چاہتا ہے: یوکرین


یوکرین کے وزیر ِاعظم نے جمعے کے روز روس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ روس کی سرگرمیاں یورپ میں بڑے فوجی تنازع کو جنم دینے کا سبب بن سکتی ہیں

یوکرین کے وزیر ِاعظم آرسنیے یاتسینیوک نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ روس یوکرین پر فوجی اور سیاسی قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

یوکرین کے وزیر ِاعظم نے جمعے کے روز روس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ روس کی سرگرمیاں یورپ میں بڑے فوجی تنازع کو جنم دینے کا سبب بن سکتی ہیں۔

یوکرین کے وزیر ِاعظم کا اپنی کابینہ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ’روس تیسری جنگ ِ عظیم شروع کرنا چاہتا ہے‘۔

دوسری طرف، امریکی صدر براک اوباما نے جنوبی کوریا کی صدر کے ساتھ سیئول میں ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب میں روس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے مشرقی یوکرین میں مداخلت جاری ہے۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ مشرقی روس میں روس نواز علیحدگی پسندوں نے حکومتی عمارات پر قبضہ جما رکھا ہے۔

اس موقعے پر، صدر اوباما کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر روس نے اپنی روش نہ چھوڑی اور یوکرین میں مزید مداخلت کی تو وہ اہم یورپی رہنماؤں سے روس پر کڑی پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں بات کریں گے۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ روسی صدر کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا آیا وہ اپنے ملک کی کمزور معیشت کو مزید کمزور کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ یوکرین میں سفارتی ذرائع سے مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

دوسری جانب روسی وزیر ِخارجہ سرگئی لاوروف نے جمعے کے روز یوکرین کے معاملے پر مغرب کو تناؤ میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

روسی وزیر ِخارجہ نے یوکرین کی جانب سے روس نواز علیحدگی پسندوں کے خلاف کیے جانے والے سیکورٹی آپریشن کو ’جرم‘ قرار دیا۔

یوکرین کے عہدیداروں نے جمعرات کے روز علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشن میں پانچ علیحدگی پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

یوکرین کی حکومت نے اس عزم کو دہرایا ہے کہ روس نواز علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔

XS
SM
MD
LG