رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین: وزیرِاعظم کا عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان


مسٹر یاتسنیوک نے یہ اعلان جمعرات کے روز کیا، جس سے کچھ ہی گھنٹے قبل حکمراں اتحاد میں شامل دو سیاسی جماعتوں نے اتحاد سے الگ ہونے کا اعلان کیا

یوکرین کے وزیر اعظم، آرسنی یاتسنیوک نے اعلان کیا ہے کہ وہ مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں، ایسے میں جب پارلیمان میں یوکرین کے حکمراں اتحاد کی اکثریت ختم ہوتی جا رہی ہے۔
مسٹر یاتسنیوک نے یہ اعلان جمعرات کے روز کیا، جس سے کچھ ہی گھنٹے قبل حکمراں اتحاد میں شامل دو سیاسی جماعتوں نے اتحاد سے نکلنے کا اعلان کیا۔

صدر پیترو پوروشنکو نے جمعرات کو ایک بیان جاری کیا جس میں قانون سازوں کو سراہتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اُن کے فیصلے سے یوکرینی عوام کی امیدوں کی ترجمانی ہوتی ہے۔
اس سال کے اوائل میں وزیر اعظم وکٹر ینوکووچ کی سبک دوشی کے بعد سے اب تک کوئی پارلیمانی انتخابات نہیں ہوئے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اُن کے کئی ایک اتحادی پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔ مسٹر پوروشنکو نے جمعرات کے دِن پارلیمان سے مطالبہ کیا کہ نئے انتخابات سے قبل کے ہفتوں اور مہینوں کے دوران وہ جم کر کام جاری رکھیں۔

دریں اثنا، یوکرین کی قومی سلامتی کے ترجمان نے کہا ہے کہ روسی افواج نے ملک کے مشرق میں یوکرینی فوج کے خلاف کئی ایک سمتوں سے کارروائی کر رکھی ہے۔

کرنل ایندری لائسنکو نے کہا ہے کہ روسی افواج اپنی سرحد کے اندر سے مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کی مدد سے یوکرین کے محاذوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جو روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں سے نبردآزما ہیںٕ۔

گذشتہ ہفتے مار گرائی گئی ملائیشین ایئرلائنز کی پرواز ایم ایچ 17 کی باقیات کو یوکرین سے نیدرلینڈز لے جانے کا کام اب بھی جاری ہے۔ مسافر طیارے میں سوار 298 افراد میں سے 193 کا تعلق ہالینڈ سے تھا۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم، ٹونی ایبٹ نے کہا ہے کہ آسٹریلیا اور نیدرلینڈز کے وزرائے اعظم کئیف جانے والے ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کے توسط سے ایک بین الاقوامی ٹیم کو تعینات کرنے سے متعلق تفصیل طے کریں گے، تاکہ باغیوں کے زیر تسلط مشرقی یوکرین میں واقع طیارہ گرنے کے مقام کو محفوظ بنایا جاسکے۔ اس ٹیم کا حصہ بننے کے لیے آسٹریلیا نے 50 پولیس اہل کار لندن روانہ کیے ہیں۔

نیدرلینڈز میں لاکھوں افراد نے فلائیٹ ایم ایچ 17 میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ سروسز اور تقریبات میں شرکت کی ہے۔ یہ لاشیں بدھ کو ملک پہنچا دی گئی تھیں۔

جمعرات کے دِن کئیف مین آسٹریلیا، ہالینڈ اور یوکرین کے وزرائے خارجہ نے ملاقات کی، جس میں بازیابی کے عمل پر غور کیا گیا اور عہد کیا کہ جائے حادثہ کو محفوظ بنایا جائے گا، اور حادثے کے مقام سے بچنے والی باقیات کو اکٹھا کیا جائے گا۔

اس سے قبل جمعرات کو، روس نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ثابت کریں کہ روس نواز علیحدگی پسندوں نے مشرقی یوکرین میں ایس اے 11 قسم کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے مسافر طیارے کو مار گرایا تھا۔ روس کے معاون وزیر دفاع، اناتولی اتونوف نے امریکہ سے کہا کہ وہ الزام کو ثابت کرنے لے لیے شواہد سامنے لائے کہ اُس کے پاس تنکینی ڈیٹا اور سیٹلائٹ فوٹوز موجود ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسافر طیارے کو روسی ساختہ ایس اے 11 ’بوک‘ میزائل سے مار گرایا گیا تھا اور یہ کہ ممکنہ طور پر غیر تربیت یافتہ باغیوں نے یہ میزائل فائر کیا، یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ یوکرین کا طیارہ ہے۔

ایسے میں جب علاقے میں جاری لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، بدھ کے روز مشرقی یوکرین میں یوکرین کے دو جنگی طیاروں کو مار گرایا گیا۔

XS
SM
MD
LG