رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین: طیارے کے 'بلیک باکس' ملائشیا کے حوالے


ملائشین وفد کے سربراہ نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں 'بلیک باکس' کو معمولی نقصان پہنچا ہے لیکن ان کی حالت تسلی بخش ہے۔

یوکرین کے مشرقی حصے میں سرگرم باغیوں نے جمعرات کو علاقے میں مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بننے والے مسافر طیارے کے 'بلیک باکس' ملائشیا کے حکام کے حوالے کردیے ہیں۔

'ملائشین ایئر لائنز' کے طیارے کے دونوں 'بلیک باکس' مشرقی یوکرین کے ایک اہم علیحدگی پسند رہنما الیگزنڈر بوروڈی نے منگل کو علی الصباح ملائشیا کے وفد کے حوالے کیے۔

'بلیک باکس' کو ملائشین حکام کے حوالے کرنے کی تقریب یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کرنے والے مشرقی علاقے ڈونیسک پر قائم باغیوں کی حکومت کے صدر دفتر میں منعقد ہوئی جس میں صحافی کی بڑی تعداد شریک تھی۔

ملائشیا کی قومی سلامتی کونسل کے عہدیدار کرنل محمد سکری نے اپنی حکومت کی جانب سے 'بلیک باکس' وصول کیے جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک دستاویز پر دستخط بھی کیے۔

باغی رہنما الیگزنڈر بوروڈی – جو ڈونیسک کی باغی حکومت کے وزیرِاعظم ہیں - نے صحافیوں کو بتایا کہ 'بلیک باکس' کی حوالگی کے لیے ان کی حکومت اور ملائشین حکام کےدرمیان طویل مذاکرات ہوئے ہیں جن میں طے پانے والے امور پر مشتمل دستاویز پر فریقین نے دستخط کیے ہیں۔

اس موقع کرنل محمد سکری نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں 'بلیک باکس' کو معمولی نقصان پہنچا ہے لیکن ان کی حالت تسلی بخش ہے۔

کرنل سکری نے 'بلیک باکس' کی حوالگی پر ڈونیسک کی باغی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

الیگزنڈر بوروڈی نے صحافیوں کو بتایا کہ طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کی لاشیں اور باقیات لانے والی ٹرین بھی جائے حادثہ سے ڈونیسک پہنچ گئی ہے جہاں سے اسے یوکرین کی حکومت کے زیرِ انتظام شہر خارکیف روانہ کیا جارہا ہے۔

باغی رہنما نے بتایا کہ بدقسمت طیارے کے 'بلیک باکس ' لے جانے والا ملائشیا کا وفد اور جائے حادثہ کا دورہ کرنے والی نیدرلینڈز کی تحقیقاتی ٹیم کے ارکان بھی ٹرین کے ساتھ خارکیف جارہے ہیں۔

اس سے قبل پیر کی شب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک مشترکہ قرارداد میں یوکرین کے روس نواز باغیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عالمی ماہرین اور تفتیشی اہلکاروں کو جائے حادثہ تک آزادانہ رسائی دیں۔

قرارداد کا مسودہ سلامتی کونسل کے رکن آسٹریلیا نے تیار کیا تھا جس کے 37 شہری بدقسمت طیارے میں سوار تھے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ جولی بشپ خاص طور پر نیویارک پہنچی تھیں جہاں انہوں نے اپنے خطاب میں روس پر زور دیا کہ وہ باغیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے قرارداد پر عمل درآمد ممکن بنائے۔

آسٹریلوی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثہ میں ہلاک ہونے والے مسافروں کے لواحقین اور ان کے ملکوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ یہ حادثہ کیسے ہوا اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

سلامتی کونسل سے اپنے خطاب میں عالمی ادارے میں امریکی سفیر سمانتھا پاور نے کہا کہ اگر جمعرات کو طیارہ گرنے کے فوراً بعد روس باغیوں پر دباؤ ڈالتا کہ وہ جائے حادثہ سے دور چلے جائیں اور علاقے میں غیر ملکی ماہرین کو آنے دیں تو آج اس قرارداد کی ضرورت نہ پڑتی۔

XS
SM
MD
LG