رسائی کے لنکس

logo-print

روس، یوکرین کو گیس کی فراہمی کے عارضی معاہدے پر رضامند


یوکرین کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے اور موسم سرما میں صارفین کے لیے اُسے گیس کی اشد ضرورت تھی۔

روس ایک عارضی معاہدہ طے پانے کے بعد موسم سرما میں یوکرین کو گیس کی فراہمی پر رضا مند ہو گیا ہے، یہ معاہدہ یورپی کمیشن کی معاونت سے طے پایا۔

برسلز میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جمعرات کو اس معاہدے کا اعلان کیا گیا۔ اس معاہدے کی مدت مارچ 2015 میں ختم ہو جائے گی اور اس کے تحت گیس کے حصول کے لیے یوکرین روس کو ماہانا پیشگی ادائیگی کرے گا۔

یوکرین کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے اور موسم سرما میں صارفین کے لیے اُسے گیس کی اشد ضرورت تھی۔

یہ معاہدہ یورپی یونین ، روس اور یوکرین کے متعلقہ عہدیداروں کے درمیان کئی مہینوں کی بات چیت کی طے پایا۔

اس سلسلے میں حتمی مذاکرات بدھ کو برسلز میں شروع ہوئے تھے پہلے روز کسی نتیجے پر نا پہنچنے کی بنا کر جمعرات کو بھی مذاکرات ہوئے۔

یورپی یونین کی توانائی کے اُمور کی کمشنر گنٹر اوئٹنگر نے برسلز مذاکرات سے قبل کہا تھا کہ ایک عبوری معاہدہ طے پانے کے امکانات پچاس فیصد ہیں۔ تاہم ایک معاہدے طے پانے پر اُنھوں نے مسرت کا اظہار کیا۔

جون میں یوکرین کی فورسز اور ملک کے شمال مشرق میں علیحدگی پسندوں کے درمیان لڑائی کے بعد ماسکو نے یوکرین کو گیس کی فراہمی بند کر دی اور کہا کہ یوکرین کے ذمے توانائی کے بل کی مد میں پانچ ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔

یورپین کمیشن یوکرین کی طرف سے لگ بھگ ڈھائی ارب ڈالر قرض کی درخواست پر غور کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG