رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین کے بحران کا حل سیاسی مزاکرات میں ہے: بان کی مون


ایک روس نواز علیحدگی رہنما کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آچکا ہے کہ اگر انہیں زیادہ خود مختاری دی جائے تو وہ یوکرین کا حصہ رہنے پر تیار ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے یوکرین کے بحران کو حل کرنے کے لیے روس اور یوکرین کے درمیان سیاسی مزاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

بان کی مون نے یہ بیان منگل کو نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران دیا۔

بان کی مون کی طرف سے یہ بیان یوکرین میں علیحدگی پسند رہنما آندرے پرگن کے اس بیان کے ایک دن بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

پرگن نے پیر کو بیلاروس کے دارالحکومت منسلک میں امن مزاکرات کے پہلے دور سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انہیں زیادہ خود مختاری دی جائے تو وہ یوکرین کا حصہ رہنے پر تیار ہیں۔

دوسری طرف یوکرین کے صدر پوروشنکو نے روس پر اپنے ملک کے خلاف ''کھلی جارحیت " کا الزام عائد کیا ہے۔

نیٹو کے مطابق یوکرین میں اندازً 1,000 روسی فوجی موجود ہیں۔ روس مسلسل اس بات سے انکاری ہے کہ اس کا کوئی بھی فوجی یوکرین میں ہے۔

یوکرین کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یوکرینی دستوں کی روسی ٹنیک یونٹ سے ناکام لڑائی کے بعد فوج نے اپنے دستوں کو باغیوں کے زیر قبضہ علاقے لوہانسک کے قریبی ہوائی اڈے سے پیچھے ہٹنے کا کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتوار سے اب تک سات یوکرینی فوجی ہلاک اور 25 زخمی ہو چکےہیں۔

یورپین رہنما روس پر یوکرین کے خلاف جنگ شروع کرنے کا الزام عائد کرتے آرہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG