رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین: مظاہرین کو 48 گھنٹوں میں معاملہ نمٹانے کا انتباہ


وزیر داخلہ کے بقول ایسے مظاہرین جو جھگڑا چاہتے ہیں "ان کو یوکرین کے حکام بھرپور جواب دیں گے۔"

یوکرین کے وزیرداخلہ نے متنبہ کیا ہے کہ مشرقی علاقے میں روس کے حامی مظاہرین سے تنازع کو بات چیت یا طاقت کے استعمال سے 48 گھنٹوں میں حل کیا جائے۔

ارسن ایواکوف نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ اس معاملے کا بدستور "سیاسی حل" موجود ہے۔ لیکن ان کے بقول ایسے مظاہرین جو جھگڑا چاہتے ہیں "ان کو یوکرین کے حکام بھرپور جواب دیں گے۔"

ماسکو کے حامی گروپوں نے حالیہ دنوں میں مشرقی یوکرین میں متعدد سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرتے ہوئے روس کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کیا۔ مغرب کی حمایت یافتہ عبوری حکومت کے خلاف ملک میں ہونے والے مظاہروں میں ڈرامائی انداز میں شدت دیکھی گئی ہے۔

حکام نے منگل کو خارکیف سے 60 مظاہرین کو حراست میں لیا تھا جب کہ مظاہرین نے اتوار کو ڈونیٹسک میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

شہر لوہانسک میں یوکرین کے حکام کے بقول سکیورٹی کے ایک دفتر سے بدھ کی صبح 50 افراد کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں روس کے حامیوں نے مبینہ طور پر 60 لوگوں کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ حکام نے بتایا کہ مظاہرین نے عمارت میں بارودی مواد بچھا رکھا ہے۔

امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری نے روس کے ایجنٹس اور اسپیشل فورسز پر مشرقی یوکرین میں بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
XS
SM
MD
LG