رسائی کے لنکس

logo-print

باغی اب بھی گولہ باری کر رہے ہیں: یوکرینی حکام


یوکرین کے مشرقی شہر ماریوپول کے قریب تازہ جھڑپوں کے تناظر میں یوکرین، روس، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے جنگ بندی کی حمایت کا نیا عزم ظاہر کیا۔

یوکرین کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود روس نواز علیحدگی پسندوں نے کئی گھنٹوں تک مشرقی یوکرین میں فورسز کے چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

انتولیے ستلماخ نے جمعہ کو بتایا کہ باغی ڈونٹسک کے گرد و نواح کے علاوہ کوراخوو نامی گاؤں پر شدید بمباری کرتے رہے۔

ان کے بقول ساحلی شہر ماریوپول کے قریب واقع ایک گاؤں پر بھی بھاری گولہ باری کی جاتی رہی ہے۔

گزشتہ روز بھی ماریوپول کے قریب لڑائی کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔

قبل ازیں یوکرین کے مشرقی شہر ماریوپول کے قریب تازہ جھڑپوں کے تناظر میں یوکرین، روس، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے جنگ بندی کی حمایت کا نیا عزم ظاہر کیا۔

جمعرات کو ان رہنماؤں نے تازہ لڑائی کی مذمت کرتے ہوئے طرفین پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کریں جس کی اب تک کئی خلاف ورزیاں دیکھنے میں آچکی ہیں۔

جمعرات ہی کو کیئف میں صدر پیٹرو پوروشنکو نے اقوام متحدہ سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ وہ 12 فروری کو ہونے والی جنگ بندی کی نگرانی کے لیے اپنے مبصر بھیجے۔

اس کے چند گھنٹوں بعد اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ عالمی تنظیم کو اس ضمن میں تاحال کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔ روس کا موقف ہے کہ علاقے میں امن مبصرین کی موجودگی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی ہو گی۔

XS
SM
MD
LG