رسائی کے لنکس

مغربی موصل کی لڑائی میں لاکھوں شہریوں سے متعلق خدشات


فائل فوٹو

ترجمان کے بقول شہر میں خوراک ناکافی ہے جس کی وجہ سے چینی، آٹا اور چنے جیسی روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

عراق کی فورسز کی طرف سے موصل شہر کو مکمل طور پر شدت پسند گروپ داعش سے واگزار کروانے کے لیے آئندہ ہفتوں میں ہونے والی کارروائی کے تناظر میں امدادی تنظیموں نے شہر کے مغربی حصے میں آباد لگ بھگ ساڑھے سات لاکھ افراد کی سلامتی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔

عراقی فورسز نے موصل کو داعش سے پاک کرنے کے لیے شروع کی گئی کارروائی کے 100 دن بعد مشرقی حصے سے شدت پسندوں کو نکال باہر کرنے کا بتایا ہے اور اب وہ مغربی حصے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق موصل میں ہونے والے جانی نقصان میں لگ بھگ نصف عام شہری تھے اور اس عالمی ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ مغربی موصل میں پھنسے شہریوں کو متعدد خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس میں فائرنگ اور نصب شدہ بموں کی زد میں آنے کے علاوہ شدت پسندوں کی طرف سے انسانی ڈھال بنایا جانا بھی شامل ہے۔

عراق کے لیے انسانی امداد کی معاون لیزا گرینڈی کہتی ہیں کہ "مغربی موصل سے ملنے والی خبریں بہت پریشان کن ہیں۔ امدادی کارکنوں کو ان علاقوں تک رسائی حاصل نہیں لیکن اب تک ملنے والے شواہد صورتحال میں تیزی سے ابتری کی نشاندہی کر رہے ہیں۔"

مہاجرت کی بین الاقوامی تنظیم "انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن" کے تقریباً ایک ہزار کارکنان شمالی عراق میں اربیل میں موجود ہیں۔ ان میں سے اکثر کے خاندان کے افراد اور احباب موصل میں موجود ہیں۔

تنظیم کے ترجمان جوئل ملمین کا کہنا تھا کہ تنظیم کو ان افراد کے ذریعے علاقے کی صورتحال کی بابت معلومات مل رہی ہے۔

ان کے بقول شہر میں خوراک ناکافی ہے جس کی وجہ سے چینی، آٹا اور چنے جیسی روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

"ہمیں یہ بھی پتا چلا ہے کہ لوگ سردی سے بچنے اور کھانا پکانے کے لیے ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے اپنا فرنیچر جلانے پر مجبور ہیں۔"

گرینڈی کا کہنا تھا کہ یہ پیش گوئی تو نہیں کی جا سکتی کہ مغربی موصل کی لڑائی کیا رخ اختیار کرتی ہے لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہاں محاصرے اور بڑے پیمانے پر نقصان ممکن ہے۔

XS
SM
MD
LG