رسائی کے لنکس

logo-print

افغان شہریوں کی ہلاکتوں میں 31 فیصد اضافہ


اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں لڑائی اور عسکریت پسندوں کے حملوں میں تیز ی آنے سے رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں شہریوں کی ہلاکت میں31 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس دوران 1,271 افراد ہلاک ہوئے۔

منگل کو عالمی تنظیم کے کابل میں خصوصی نمائندے سٹافن دی مستورا نے ایک نیوز کانفرنس میں اقوام متحدہ کی جائزہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے کے دوران 1,997 شہری زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر کو گہرے زخم آئے۔

انھوں نے کہا کہ کے 76 فیصد شہری ہلاکتوں کی ذمہ دار حکومت مخالف قوتیں ہیں جب کہ پچھلے سال یہ شرح 53 فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر شہری سڑک میں نصب بم دھماکوں کا شکار ہوئے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ نے کہا کہ شہری ہلاکتوں میں اضافہ ایک افسوس ناک امر ہے اور افغانستان میں جاری لڑائی میں جانی نقصانات میں اضافہ اُن کے لیے نہ صرف باعث پریشانی ہے بلکہ یہ ایک انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے۔

طالبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ”اگر وہ افغانستان کے مستقبل کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کی لاشیں گرا کرایسا نہیں کرسکتے۔“

رواں سال افغانستان میں بچوں کی ہلاکتوں میں 55 فیصد اضافہ ہو ا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 12 فیصد شہری ہلاکتوں کی ذمہ دار امریکہ، نیٹو اور افغان افواج ہیں۔ لیکن عالمی ادارے نے اعتراف کیا ہے کہ پچھلے سال کے مقابلے میں رواں سال نیٹو افواج کے حملوں میں ہونے والی شہری ہلاکتوں میں 64 فیصد کمی آئی ہے اور اس کی وجہ افغانستان میں بین الاقوامی افواج کے سابق امریکی کمانڈر جنرل سٹینلی میکرسٹل اور حالیہ کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی پالیساں ہیں۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ 12 فیصد شہری اموات ایسی ہیں جن کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اُن کا ذمہ دار کون ہے۔

اقوام متحدہ کی شہری ہلاکتوں کے بارے میں یہ رپورٹ ایسے روز سامنے آئی جب دارالحکومت کابل کے مرکزی رہائشی علاقے میں دو خودکش حملوں میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغان وزرات داخلہ نے اپنے فوری ردعمل میں کہا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ ان خودکش حملہ آوروں کا ہدف کون تھا۔

XS
SM
MD
LG