رسائی کے لنکس

اقوامِ متحدہ کے اداروں کا افغانستان میں امدادی کام جاری رکھنے کا عزم


فائل فوٹو میں افغان خواتین کو اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے اس سال اپریل میں بے گھر لوگوں کی امداد کے ساتھ خوراک فراہم کی جارہی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اس کے مختلف ذیلی ادارے افغانستان میں اپنا امدادی کام جاری رکھیں گے تاکہ طالبان کی پیش قدمی سے پیدا ہونے والی صورتِ حال میں وہ افغان عوام کو امداد پہنچاتے رہیں۔

طالبان کی جانب سے ملک کے دیہی علاقوں میں جارحانہ حملوں کے بعد لوگوں نے بڑی تعداد میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں کئی مقامات پر پناہ لے رکھی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے معاون ادارے کے ترجمان جینز لیرک نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ اقوامِ متحدہ گزشتہ 70 برس سے افغانستان میں بغیر کسی تعطل کے اپنا کام انجام دے رہا ہے اور اس کا عملہ ملک میں آج بھی میں موجود ہے۔

البتہ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اپنے افغان اور بین الااقوامی عملے کی حفاظت کے لیے فکر مند ہے اور ان کی سلامتی کی خاطر حالات کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔

ان کے بقول، "اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کی موجودہ صورتِ حال غیر مستحکم ہے اور تیزی سے بدل رہی ہے۔ لیکن ہم اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ یہ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم یہاں موجود ہو کر افغان عوام کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ افغانستان میں ہمارا معاہدہ افغانستان کے لوگوں، سویلین سے ہے اور ہم ان کے لیے یہاں موجود رہیں گے اور ان کی امداد جاری رکھیں گے۔"

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ افغانستان میں مختلف شعبوں میں امدادی کاموں کے لیے 720 ارکان پر مشتمل اسٹاف کی خدمات سے استفادہ کر رہا ہے۔ ان میں سے 300 اسٹاف ممبرز ملک کے مختلف حصوں میں موجود ہیں جب کہ باقی کارکن عالمی وبا کے باعث دور رہ کر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

رواں برس عالمی ادارے سے تعلق رکھنے والی اور غیر حکومتی 156 تنظیموں نے 80 لاکھ افغان لوگوں کو انسانی دوستی کے تحت امداد فراہم کی تھی۔

لیرک کے مطابق رواں سال مئی سے لڑائی کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی اثنا میں امریکہ اور نیٹو کی افغانستان میں کئی برسوں سے تعینات فوجوں کا انخلا تیزی سے جاری رہا۔ ان کے نکلنے سے پہلے افغانستان میں نقل مکاںی کرنے والوں کی کابل میں تعداد 21 ہزار تک ریکارڈ کی گئی تھی۔

البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کئی ہزار لوگوں نے دارالحکومت کابل کا رخ کیا ہے۔ ان میں زیادہ تر لوگوں کے پاس سونے کی جگہ نہیں اور انہیں امداد دینا دشوار ہوتا جارہا ہے۔ تاہم ان لوگوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے کام جاری ہے۔

ان کے بقول، "انسان دوست امداد دینے والے کارکنان کی حیثیت سے ہم طالبان سمیت کسی کے ساتھ بھی مل کر کام کریں گے تاکہ ضرورت مند افراد تک امداد پہنچائی جائے۔ اور ہم ایسا غیر جانبداری اور امداد کی فراہمی میں آزادانہ کام کرنے کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے کریں گے۔"

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اس وقت چار لاکھ بے گھر ہونے والے افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

یہ تنظیم ضرورت مند لوگوں کو کھانا، پناہ دینے اور حفظانِ صحت کی امداد فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG