رسائی کے لنکس

افغانستان: ہرات میں اقوامِ متحدہ کے دفتر پر حملے میں ایک محافظ ہلاک


فائل فوٹو

افغانستان کے صوبہ ہرات میں اقوامِ متحدہ کے دفتر پر راکٹس، گرنیڈز اور جدید اسلحے سے حملہ کیا گیا ہے جس میں ایک افغان پولیس اہل کار ہلاک اور دیگر افسران زخمی ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ واضح طور پر دکھائی دینے والے اقوامِ متحدہ دفتر کے داخلی راستے پر ہوا جو کہ حکومت مخالف حملہ آوروں کی طرف سے کیا گیا۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مشن کی سربراہ ڈیبورا لیانز نے اس حملے کو 'افسوس ناک' قرار دیا۔

ڈیبورا لیانز جو کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی افغانستان کے لیے خصوصی مشیر بھی ہیں، کی طرف سے اس حملے کی شدید مذمت بھی کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی نیک خواہشات حملے میں زخمی ہونے والے افسران کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے حملوں کی بین الاقوامی قوانین کے تحت ممانعت ہے اور یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اقوامِ متحدہ افغانستان میں حکومت اور عوام کی امن کے حصول کے لیے حمایت جاری رکھے گا۔

دوسری طرف طالبان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہرات میں واقع اقوامِ متحدہ کے دفتر کو کسی قسم کے خطرات لاحق نہیں تھے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ اقوامِ متحدہ کے محافظ وہاں جاری جھڑپوں میں دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہوں۔ تاہم ذبیح اللہ کے بقول مجاہدین چوں کہ اب وہاں پہنچ چکے ہیں لہٰذا اب وہ محفوظ ہیں۔

صوبہ ہرات میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر پر ہونے والے حملے کی امریکہ کی طرف سے بھی مذمت کی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے نیشنل سیکیورٹی مشیر جیک سلیون کا جاری کردہ بیان میں کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ افغانستان میں ایک سویلین ادارہ ہے جس کا مقصد امن کوششوں کی حمایت اور عوامی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

جیک سیلون کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانستان میں جاری تشدد میں فوری طور پر کمی کی جائے اور تمام فریقین مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔ تا کہ افغانستان میں امن قائم ہو سکے۔

رپورٹس کے مطابق ہرات میں رواں ہفتے بدھ سے شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

مقامی حکام نے جمعرات کو دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ہرات شہر کے شمال مشرقی اضلاع میں طالبان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔

گزشتہ 20 برس سے جاری جنگ میں یہ پہلا موقع تھا کہ طالبان ہرات کے کچھ حصوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

کمانڈو فورس کے کمانڈر اکرم خان کا افغان نشریاتی ادارے ’طلوع نیوز’ کو کہنا تھا کہ ان کے پاس ٹینکس اور جنگی ساز و سامان موجود ہے اور وہ طالبان کے خلاف ہمت سے لڑیں گے۔

رپورٹس کے مطابق مقامی سیکیورٹی حکام نے کم از کم 40 طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طالبان نے ایک بار پھر سے ضلع کاروخ کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور ضلع گذارا کے بھی اکثریتی حصوں پر طالبان قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جو کہ ہرات کے ہوائی اڈے کے قریب واقع ہے۔ ہرات جانے والی پروازیں دو دن کے لیے منسوخ کر دی گئی ہیں۔

جمعے کو طالبان کے حامی سوشل میڈیا صارفین نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں طالبان کو کاروخ کی ضلعی حکومت کے دفاتر کے باہر دیکھا جا سکتا ہے۔

طالبان کے مخالف مقامی فورسز کے ترجمان عبد الرزاق احمدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان شہر کے جنوب میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان جیلانی فرہاد کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی شدید جھڑپوں کے بعد پشتون پُل کے اطراف صورت حال کو کنٹرول کر لیا گیا ہے۔

جیلانی فرہاد نے دعویٰ کیا کہ جھڑپوں میں 150 طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔

ہرات میں قائم صوبائی اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عارف جلالی کا کہنا ہے کہ 21 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں دو عام شہری بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پانچ لاشوں کو جن میں اقوام متحدہ کے دفتر کے گارڈ کی لاش بھی شامل تھی، انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG