رسائی کے لنکس

logo-print

احمدی نژاد یورینیم کی افزودگی روکنےکےلیےبات چیت پر تیار


ایرانی صدرمحمود احمدی نژاد نےکہا ہےکہ اگرعالمی طاقتیں ایران کے طبی تحقیق کے ری ایکٹر کے لیےجوہری ایندھن دینے پر تیار ہوں تو وہ عالمی رہنماؤں سے مل کر یورینیم کی افزودگی کو ترک کرنے پر بات چیت کر سکتے ہیں۔

نیو یارک میں ایک اخباری کانفرنس میں مسٹر احمدی نژاد نے کہا کہ ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے تاریخ طے کرنے پر تیار ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ مذاکرات اکتوبر میں ہو سکتے ہیں۔

مسٹر احمدی نژاد نے کہا کہ ایران گروپ کے ساتھ ایندھن کا تبادلہ کرنے پر بات چیت پر تیار ہے۔ اس طرح کے معاہدے پر اکتوبر میں جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے آخری دور میں اتفاق کیا گیا تھا۔ معاہدے کے تحت ملک میں تیار ہونے والےافزودہ یورینیم کےایک بڑے حصے کے بدلے ایران کو اُس کے تحقیقی طبی ری ایکٹر کے لیے ایندھن مہیا کیا جائے گا۔

ابتدائی طور پر معاہدے کو قبول کرنے کے بعد ایران اُس سے منحرف ہو گیا تھا۔ مئی میں ترکی اور برازیل کے ساتھ مذاکرات میں ایران نے عندیا دیاتھا کہ وہ نظر ثانی کرنے پر تیار ہے۔

مسٹر احمدی نژاد نے کہا کہ دباؤ کارگر نہیں ہوگا، تاہم احترام کی بنیاد پر کیے جانے والے مذاکرات سودمند ثابت ہوں گے۔

ایرانی لیڈر نے یہ بیان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے بعد دیا جہاں اُنھوں نے امریکہ پر نکتہ چینی کی۔

جمعرات کو جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ اہم طاقتیں نیوکلیئر پروگرام پر ایران کے ساتھ مکالمے پر تیار ہیں۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ ایران پروگرام کےبارے میں اپنے پُرامن ارادے کا مظاہرہ کرے۔

یورینیم کی افزودگی کو روکنے سے انکار پر جون میں اقوامِ متحدہ نے ایران کےخلاف چوتےا دورکی پابندیاں عائد کیں۔

XS
SM
MD
LG