رسائی کے لنکس

logo-print

جمہوریہ وسطی افریقہ کے لیے امن فورس کی منظوری


مجوزہ امن فورس میں 10 ہزار فوجی جب کہ 1800 پولیس اہلکار شامل ہوں گے جن کا تعلق اقوامِ متحدہ کے رکن ملکوں سے ہوگا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر 12 ہزار اہلکاروں پر مشتمل بین الاقوامی امن فورس خانہ جنگی کا شکار ملک جمہوریہ وسطی افریقہ بھجوانے کی منظوری دیدی ہے۔

سلامتی کونسل میں جمعرات کو منظور کی جانے والی ایک قرارداد کے مطابق یہ فورس 15 ستمبر تک جمہوریہ وسطی افریقہ میں موجود چھ ہزاروں اہلکاروں پر مشتمل افریقی فورس کی جگہ سنبھالے گی۔

قرارداد کے مطابق مجوزہ امن فورس میں 10 ہزار فوجی جب کہ 1800 پولیس اہلکار شامل ہوں گے جن کا تعلق اقوامِ متحدہ کے رکن ملکوں سے ہوگا۔

جمہوریہ وسطی افریقہ میں اس وقت افریقی یونین کے چھ ہزار فوجیوں کے علاوہ فرانس کے دو ہزار فوجی اہلکار بھی موجود ہیں جو وہاں دسمبر سے جاری نسلی فسادات پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وسطی افریقہ کے اس ملک میں گزشتہ سال مسلمان باغیوں نے مرکزی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جس کے بعد گزشتہ سال کے اختتام پر عیسائی ملیشیاؤں نے مسلمانوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں شروع کردی تھیں جوتاحال جاری ہیں۔

ان حملوں کے باعث اب تک آٹھ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں جب کہ 46 لاکھ آبادی کے اس ملک کی نصف سے زائد آبادی بنیادی انسانی ضروریات تک رسائی کے لیے بھی عالمی امداد پر انحصار کر رہی ہے۔

جمہوریہ وسطی افریقہ کے وزیرِ خارجہ ٹوسینٹ کونگو ڈوڈو نے بین الاقوامی امن فورس کے قیام کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ملک میں قیام امن اور استحکام میں مدد ملے گی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریہ وسطی افریقہ کی عبوری حکومت ملک میں وسیع تر مفاہمت، فسادات کے خاتمے اور فروری 2015ء تک آزادانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے کوشاں ہے۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں فرانس کے سفیر جیرارڈ اروڈ نے بتایا کہ جمہوریہ وسطی افریقہ میں موجود افریقی اور فرانسیسی فوجی دستے حالات پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن وہاں کے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت قائم کی جانے والی بین الاقوامی امن فورس شہریوں کے تحفظ، قیامِ امن، امدادی کاروائیوں میں اعانت ، انسانی حقوق کی صورتِ حال کی نگرانی اور فسادات پر قابو پانے جیسی اہم ذمہ داریاں انجام دے گی۔

سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والی قرارداد کے مطابق افریقی یونین کے فوجی دستے ستمبر میں بین الاقوامی امن فورس کو سکیورٹی کی ذمہ داریاں منتقل ہونے تک جمہوریہ وسطی افریقہ میں بدستور فوجی سرگرمیاں انجام دیتے رہیں گے۔

بعد ازاں افریقی ممالک کے ان فوجی دستوں میں سے بیشتر کو نئی بین الاقوامی امن فورس میں ضم کردیا جائے گا۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر سمانتھا پاور کے مطابق امریکہ نے جمہوریہ وسطی افریقہ میں قیامِ امن کی کوششوں کے لیے 10 کروڑ ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے جو جنوری سے اب تک امدادی سرگرمیوں کے لیے دی جانے والی چھ کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی امدادی رقم کے علاوہ ہے۔
XS
SM
MD
LG