رسائی کے لنکس

اسرائیل کا دو ریاستی حل مسترد کرنا قابلِ قبول نہیں، گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس، فائل فوٹو
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس، فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے منگل کے روز غزہ کی پٹی میں مزید امداد تک رسائی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کا اعلیٰ ترین سطح پر دو ریاستی حل کو واضح اور بار بار مسترد کرنا، ناقابل قبول ہے۔

گوتریس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پوری آبادی حالیہ تاریخ میں بے پناہ تباہی کا سامنا کر رہی ہے۔

گوتریس کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو دی جانے والی اجتماعی سزا کا کوئی جواز نہیں دیاجا سکتا۔

انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ فلسطینی محصور علاقے میں انسانی صورت حال انتہائی ہولناک ہے اور غزہ کے لوگوں کو نہ صرف بے رحم بمباری میں ہلاک یا زخمی کیے جانے کا خطرہ ہے بلکہ ان کے ہیپاٹائٹس، پیچش اور ہیضے جیسے وبائی امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں۔

رفح میں غزہ سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے عارضی خیمے۔ 23 جنوری 2024
رفح میں غزہ سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے عارضی خیمے۔ 23 جنوری 2024

سیکرٹری جنرل گوتریس نے ایک بار پھر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی اپیل بھی کی۔

حالیہ دنوں میں نیتن یاہو نے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اور پورے خطے میں اسرائیل اور حماس کی جنگ کے پھیلنے کو روکنے کے لیے فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

نیتن یاہو نے کہا ہےکہ "میں دریائے اردن کے مغرب میں تمام علاقے پر مکمل اسرائیلی سیکیورٹی کنٹرول پر سمجھوتہ نہیں کروں گا۔"

واضح رہے کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور دیگر امریکی حکام نے فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

بائیڈن نے جمعے کو کہا تھا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے ممکنہ حل کے بارے میں بات کی جس میں ایک غیر فوجی فلسطینی حکومت شامل ہو سکتی ہے۔

اسرائیل حماس جنگ کے 100 دن، دنیا بھر میں مظاہرے

واشنگٹن ڈی سی کے فریڈم پلازا پر بڑی تعداد میں مظاہرین نے جنگ بندی کے حق میں مظاہرہ کیا۔
1/11 واشنگٹن ڈی سی کے فریڈم پلازا پر بڑی تعداد میں مظاہرین نے جنگ بندی کے حق میں مظاہرہ کیا۔
واشنگٹں ڈی سی میں ہونے والے مارچ کے شرکا نے غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینیوں کے حمایت پر مبنی بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ 
2/11 واشنگٹں ڈی سی میں ہونے والے مارچ کے شرکا نے غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینیوں کے حمایت پر مبنی بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ 
پاکستان کے شہر لاہور میں بھی ہفتے کو فلسطینیوں کے حق میں ایک ریلی نکالی گئی۔ 
3/11 پاکستان کے شہر لاہور میں بھی ہفتے کو فلسطینیوں کے حق میں ایک ریلی نکالی گئی۔ 
یورپی ملک رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ میں ہونے والا مظاہرہ جس میں فلسطینی کمیونٹی کے افراد نے بھی شرکت کی۔ 
4/11 یورپی ملک رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ میں ہونے والا مظاہرہ جس میں فلسطینی کمیونٹی کے افراد نے بھی شرکت کی۔ 
اٹلی کے دارالحکومت روم میں فلسطینیوں کے حق میں  مظاہرہ کیا گیا۔ 
5/11 اٹلی کے دارالحکومت روم میں فلسطینیوں کے حق میں  مظاہرہ کیا گیا۔ 
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ہزاروں مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کیا اور جنگ بندی کے حق میں نعرے لگائے۔ 
6/11 انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ہزاروں مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کیا اور جنگ بندی کے حق میں نعرے لگائے۔ 
لندن میں اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی رکوانے کے حق میں ’سیز فائر ناؤ‘ کے عنوان سے ریلی نکالی گئی۔ 
7/11 لندن میں اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی رکوانے کے حق میں ’سیز فائر ناؤ‘ کے عنوان سے ریلی نکالی گئی۔ 
یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں مظاہرے میں شرکا نے فلسطینی جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔ 
8/11 یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں مظاہرے میں شرکا نے فلسطینی جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔ 
اسرائیل حماس جنگ کے 100 دن مکمل ہونے پر حماس کے ہاتھوں یرغمال اسرائیلیوں کے اہلِ خانہ نے بھی احتجاج کیا۔ 
9/11 اسرائیل حماس جنگ کے 100 دن مکمل ہونے پر حماس کے ہاتھوں یرغمال اسرائیلیوں کے اہلِ خانہ نے بھی احتجاج کیا۔ 
اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ہونے والے مظاہرے کے دوران یرغمالوں کے اہل خانہ نے ان کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔
10/11 اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ہونے والے مظاہرے کے دوران یرغمالوں کے اہل خانہ نے ان کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔
تل ابیب میں بنائے گئے ’ہوسٹیج اسکوائر‘ پر یرغمال اسرائیلیوں کے اہل خانہ اور دیگر شہری چوبیس گھنٹے تک جاری رہنے والے احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ 
11/11 تل ابیب میں بنائے گئے ’ہوسٹیج اسکوائر‘ پر یرغمال اسرائیلیوں کے اہل خانہ اور دیگر شہری چوبیس گھنٹے تک جاری رہنے والے احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ 
Previous slide
Next slide

نیتن یاہو کا کہنا ہےکہ اس بارے میں ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسی فلسطینی ریایست کے قیام سے بچنا چاہتے ہیں جو اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

اپنے ایک اور بیان میں انہوں نے کہا، "ہمارے یرغمالوں کی رہائی کے بدلے حماس نے جنگ کے خاتمے، غزہ سے ہماری افواج کے انخلا اور تمام قاتلوں اور ریپ کرنے والوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ میں حماس کے شیطان صفت لوگوں کے ہتھیار ڈالنے کی شرائط کو یکسر مسترد کرتا ہوں۔"

غزہ پر اسرائیلی بمباری کے بعد لوگ ملبے میں سے اپنے پیاروں کو تلاش کررہے ہیں۔ 26 اکتوبر 2023
غزہ پر اسرائیلی بمباری کے بعد لوگ ملبے میں سے اپنے پیاروں کو تلاش کررہے ہیں۔ 26 اکتوبر 2023

واضح رہے کہ حماس نے گزشتہ برس سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں 1140 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 240 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اب تک 25 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔

(اس خبر کے لیے معلومات رائٹرز سے لی گئیں ہیں)

This item is part of

فورم

XS
SM
MD
LG