رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی سوڈان میں فوجی دھڑوں میں جھڑپیں، سینکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ


اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر کارروائیاں ختم کریں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کرے۔

جنوبی سوڈان کے دارالحکومت میں جاری فسادات میں مقامی اسپتالوں کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کم ازکم 400 افراد ہلاک اور آٹھ سو کے قریب زخمی ہو چکے ہیں جب کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے وہاں ناکام فوجی بغاوت کے بعد ہونے والی جھڑپیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے امن مشن کے سربراہ ہروو لاڈسوئس نے سلامتی کونسل کو ان ہلاکتوں اور صورتحال سے متعلق آگاہ کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ ان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان مارٹن نسیرکے نے کہا ہے کہ مسٹر بان کی مون نے جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر سے فون پر بات کی اور انھیں وہاں جاری لڑائی اور مخصوص کمیونٹیز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا۔

"سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر کارروائیاں ختم کریں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کرے اور نسلی امتیاز کے بغیر تمام شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے۔"

پیر کو صدر کیر نے کہا تھا کہ ان کے سابق نائب صدر ریئک ماچار کے وفاداروں نے بغاوت کرتے ہوئے فوج کے ایک ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا تھا۔ ماچار کو مسٹر کیر نے جولائی میں برطرف کیا تھا۔

مبصرین خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ نیور قبیلے سے تعلق رکھنے والے ماچار اور ڈنکا قبیلے کے مسٹر کیر کے درمیان اس بڑھتی ہوئی خلیج جنوبی سوڈان میں قبائلی فسادات کو ہوا دے گی۔

ناکام بغاوت اور اس کے بعد ہونے والی لڑائی میں حکام کے بقول اب تک 26 افراد ہلاک ہو چکے تھے جب کہ اقوام متحدہ کے ایک ریڈیواسٹیشن کی خبر کے مطابق مقامی اسپتال کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ انھوں نے گولیوں سے زخمی ہونے والے ایک ہزار سے زائد افراد کا علاج کیا۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے صدر اور فرانس کے سفیر جیرارڈ ارائوڈ کا کہنا ہے کہ دارالحکومت جوبا میں لگ بھگ بیس ہزار افراد نے اقوام متحدہ کے مشن میں پناہ لے رکھی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے جنوبی سوڈان میں موجود تمام امریکیوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا کہنا ہے جب کہ سفارتخانے کے تمام غیر ضروری اسٹاف کے لیے بھی ایسی ہی ہدایات جاری کی ہیں۔

منگل کو محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہاف نے کہا کہ امریکہ کو اس جاری لڑائی پر سخت تشویش ہے اور وہ جنوبی سوڈان کے سیاسی قائدین پر زور دیتا ہے کہ وہ کشیدگی کو مزید بڑھانے کی کسی بھی کارروائی سے گریز کریں۔
XS
SM
MD
LG