رسائی کے لنکس

logo-print

اقوامِ متحدہ کی شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت


گزشتہ برس اقوامِ متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اندازوں کے مطابق شمالی کوریا میں 200,000 غیر ملکیوں کو اغوا کیا جا چکا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے شمالی کوریا کی ’’انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں‘‘ کی مذمت کی ہے۔

بیس سال سے جنیوا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہر برس اس کمیونسٹ ملک کے انسانی حقوق کے خراب ریکارڈ پر ایک قرارداد منظور کرتی ہے۔

یورپی یونین اور جاپان کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد میں شمالی کوریا کی طرف سے ’’انسانی حقوق کی منظم، صریح اور وسیع پیمانے پر جاری دیرینہ خلاف ورزیوں‘‘ اور اس ملک میں ہونے والی ’’انسانی حقوق کی دوسری خلاف ورزیوں‘‘ کی مذمت کی گئی ہے۔

اس قرارداد میں پیانگ یانگ پر غیر ملکیوں کے منظم اغوا کا الزام لگایا گیا اور اس ملک سے کہا گیا کہ وہ اس مسئلے کا ’’شفاف طریقے سے‘‘ حل نکالے۔

گزشتہ برس اقوامِ متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اندازوں کے مطابق شمالی کوریا میں 200,000 غیر ملکیوں کو اغوا کیا جا چکا ہے۔

قرارداد نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کے دفتر کی جانب سے شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی نگرانی کے لئے سیئول میں ایک علاقائی دفتر کے قیام کا خیر مقدم کیا۔

اس قرارداد نے شمالی کوریا میں انسانی حقوق پر کام کرنے والے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے، مرزوکی ڈاروسمن کے عہدے کی میعاد میں ایک سال کی توسیع بھی کی۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں اس قرارداد کا خیر مقدم کیا۔ مگر پیانگ یانگ نے اس قرارداد کو ایک ’’سیاسی سازش‘‘کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔

شمالی کوریا دنیا کے چند کمیونسٹ ملکوں میں سے ایک ہے اور اس کے جنوبی کوریا سمیت متعدد علاقائی ممالک کے علاوہ مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات نہایت کشیدہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG