رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور بم دھماکوں کے بعد اقوام متحدہ کے دفاتر دو دن کے لیے بند


پشاور میں گذشتہ روز امریکی قونصلیٹ پر ہونے والے یکے بعد دیگرے تین بم دھماکوں اور فائرنگ کی تحقیقات جاری ہیں ۔ آئی جی پولیس صوبہ سرحدملک نوید نے منگل کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کی تعداد چھ تھی اور اُنھیں ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی مار دیا گیا۔

صوبائی دارالحکومت کے حساس علاقے دہشت گردوں کے اس منظم حملے کے بعد اقوام متحدہ نے پشاور میں اپنے دفاتر دو روز کے لیے بند کردیے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی ترجمان عشرت رضوی نے وائس آف امریکہ کوبتایا کہ پشاور میں عالمی ادارے کے دفاتر میں کام کرنے والے عملے کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ تاہم اُنھوں نے کہ ملک کے دیگر حصوں میں اقوام متحدہ کے دفاتر میں معمول کا کام جاری ہے۔

منگل کے روز ایک نجی ٹیلی ویژن چینل نے امریکی قونصل خانے پر ہونے والے حملے کی ویڈیوجاری کی ہے جس میں اس حملے میں استعمال ہونے والی دو گاڑیوں کو قونصلیٹ کی عمارت کے باہرکھڑے دکھایا گیا جن میں سے مسلح حملہ آور اترکر سفارت خانے کی عمارت کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔

پولیس حکام نے بھی گذشتہ شب اس بات کی تصدیق کر دی تھی کہ اس حملے میں دوگاڑیاں استعمال کی گئیں جن میں سے ایک کو پہلی چیک پوسٹ پر دھماکے خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا جب کہ سفارت خانے کی جانب بڑھنے والی دوسری گاڑی راستے میں نصب خود کار رکاوٹ سے ٹکرا کر رک گئی۔

اطلاعات کے مطابق بم دھماکوں کے بعد شہر میں خوف و ہراس کی فضا بدستور دوسرے روز بھی موجود ہے اور بعض کاروباری مراکز تاحال بند ہیں۔

اُدھر لوئر دیر میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے پر پیر کی دوپہر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے 40 سے زائد افراد میں سے بعض کی نمازہ جنازہ منگل کو ادا کر دی گئی۔

XS
SM
MD
LG