رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے تین قصبوں کی جانب امدادی سامان روانہ


اس سے قبل کہا گیا تھا کہ امدادی تنظیمیں اتوار تک تین محصور شامی قصبوں تک خوراک پہنچانے کا کام شروع کر دیں گی مگر بعد میں اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

شام کے تین قصبوں میں محصور افراد کے لیے خوراک، ادویات اور کمبل لے کر امدادی قافلے پیر کو روانہ ہو گئے ہیں۔

سرکاری فورسز اور باغی جنگجوؤں کی طرف سے محاصرے کے سبب ان علاقوں میں بسنے والے لوگ خاص طور پر بچے فاقوں پر مجبور ہیں۔

توقع کی جا رہی کہ مضایا کے علاوہ الفوعہ اور کفریا کے قصبوں میں یہ امدادی سامان بیک وقت ہی پہنچے گا۔

انٹرنیشنل ریڈ کراس، سیئرین ریڈ کریسنٹ اور اقوام کی طرف سے امداد پہچانے کے لیے یہ مشترکہ کوشش ہے۔

گزشتہ ہفتے شام کی حکومت کی طرف سے اس آمادگی کے بعد کہ امدادی سامان کو متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے گی، شام کے تین قصبوں کی جانب امداد روانہ کی گئی۔

اس سے قبل کہا گیا تھا کہ امدادی تنظیمیں اتوار تک ان تین شامی قصبوں تک خوراک پہنچانے کا کام شروع کر دیں گی مگر بعد میں اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ امداد مؤخر کرنے کی کوئی وجوہات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔

شام کے صوبے ادلب میں سرکاری فورسز کے محاصرے کے شکار قصبے مضایا میں بچوں سمیت سیکڑوں افراد شدید سردی میں غذائی قلت کے باعث موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

امدادی تنظیموں کے مطابق 40,000 افراد پر مشتمل مضایا میں صورتحال اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ لوگ اپنے پالتو جانور کھانے پر مجبور ہیں جب کہ بعض لوگ صرف گھاس اور پتوں پر گزارا کر رہے ہیں۔

طبی امداد کی بین الاقوامی تنظیم "ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز" بھی مضایا میں ایک اسپتال چلا رہی ہے۔ اس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر وکی ہاکنز کہتی ہیں کہ "لوگ حقیقتاً موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ جس شفا خانے کا انتظام چلانے میں ہم مدد کر رہے ہیں وہاں (یکم دسمبر سے) اب تک بچوں سمیت 23 اموات ریکارڈ ہو چکی ہیں۔"

دنیا کو صورت حال کی سنگینی کا حساس دلاوانے کے لیے یہاں کے لوگ اکثر وڈیوز اور تصاویر آن لائن جاری کرتے رہتے ہیں جن میں زرد ہوتے چہروں والے نوزائیدہ بچوں کو اتنی کمزور حالت میں دکھایا گیا ہے کہ وہ رو بھی نہیں سکتے۔

ایک وڈیو میں ایک ماں اپنے سات ماہ کے بیٹے کو لے کر ایک مقامی شفا خانے گئی جہاں ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ بچے نے آخری بار دودھ پیا تھا تو خاتون نے جواب دیا کہ ایک ماہ پہلے۔

خاتون کے بقول وہ بچے کو پانی اور نمک دیتی ہیں جب کہ ڈائپرز کی بجائے پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

یہاں بعض ڈاکٹر بچوں کو زندہ رکھنے کے لیے کھانسی کا شربت فراہم کرتے آرہے ہیں۔

یہاں امداد پہنچانا بہت مشکل ہے کیونکہ قافلے کے راستے میں جنگ جاری ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یہاں امدادی سامان پہنچانے کا مطالبہ کیا تھا اور رواں ہفتے مضایا کی صورتحال پر بحث کا آغاز بھی ہونے جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG