رسائی کے لنکس

logo-print

شام کی صورتِ حال بگڑ رہی ہے، براہیمی کا انتباہ


لخدار براہیمی نے کہا کہ فی الحال اقوامِ متحدہ کا شام میں امن رضاکاردستوں کی تعیناتی کا کوئی ارادہ نہیں۔

شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی نمائندے لخدار براہیمی نے خبردار کیا ہے کہ شام کی صورتِ حال بتدریج بگڑ رہی ہے جس کے پیشِ نظر عالمی برادری کو گزشتہ 19 ماہ سے جاری بحران کے حل کے لیے متحد ہو کر کوشش کرنا ہوگی۔

پیر کو روس کے دارالحکومت ماسکو میں روسی وزیرِ خارجہ سرجئی لاوروف کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی ادارے کے خصوصی ایلچی نے کہا کہ انہیں شام میں عیدالاضحی کی تعطیلات کے دوران میں متحارب فریقوں کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی پر عمل درآمد نہ ہونے کا افسوس ہے۔

لیکن انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی میں ناکامی کا بحران کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں پر منفی اثر نہیں پڑے گا اور، ان کے بقول، وہ شام کے اندر اور باہرموجود تنازع کے تمام فریقوں کے تعاون سے وہاں تشدد کے خاتمے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

لخدار براہیمی نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کا شام میں امن رضاکاردستوں کی تعیناتی کا کوئی ارادہ نہیں۔

یاد رہے کہ شام کے لیے عالمی ادارے کے خصوصی ایلچی نے صدر بشار الاسد کی شامی حکومت اور اس کے خلاف لڑنے والے باغیوں سے عیدالاضحی کے مذہبی تہوار کے موقع پر لڑائی روکنے کی اپیل کی تھی تاہم فریقین نے جنگ بندی پر اتفاقِ رائے کے باوجود لڑائی جاری رکھی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اپنے خصوصی ایلچی کی کوششوں کے باوجود شام میں جنگ بندی نہ ہونے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

پیر کو جنوبی کوریا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارے کے سربراہ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ شام میں لڑائی رکوانے کےلیے مزید کوششیں کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک عالمی برادری شام کے بحران پر تقسیم کا شکار رہے گی، شامی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

دریں اثنا برطانیہ میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں اتوار کو ہونے والی جھڑپوں اور لڑائی میں لگ بھگ 110 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شام میں غیر ملکی صحافیوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کے باعث ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔
XS
SM
MD
LG