رسائی کے لنکس

جنرل اسمبلی اجلاس کے لیے نیویارک ’سوپر بال‘ سکیورٹی انتظامات


جنرل اسمبلی کے اس 72 ویں سالانہ اجلاس میں امریکی صدر ٹرمپ سمیت بہت سے ممالک کے سربراہان تقاریر کریں گے۔ ان سربراہان میں پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی شامل ہیں۔

نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے سلسلے میں نیو یارک پولیس اور متعدد وفاقی ایجنسیاں ٹریفک اور سیکورٹی کے انتظامات میں مستعدی سے سرگرم عمل ہیں۔

جنرل اسمبلی کے اس 72 ویں سالانہ اجلاس میں امریکی صدر ٹرمپ سمیت بہت سے ممالک کے سربراہان تقاریر کریں گے۔ ان سربراہان میں پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی شامل ہیں۔

یہ اجلاس منگل کے روز نیو یارک میں اقوام متحدہ کی عمارت میں شروع ہوگا۔ اس اجلاس کے دوران بہت سی سڑکیں بند کر دی جائیں گی۔ پولیس کے ہزاروں اہلکار ٹریفک کے انتظامات اور سیکورٹی کیلئے متعین کئے گئے ہیں۔ مین ہیٹن کے ارد گرد کا علاقہ خاص طور پر توجہ کا مرکز رہے گا جہاں کئی گروپوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاجی ریلیوں کا ارادہ کر رکھا ہے۔

پیر کے روز وائیٹ سپریمیسی کے خلاف ایک ریلی گرینڈ سینٹرل ٹرمنل سے شروع ہو گی جبکہ ’کوڈ پنک‘ نامی بائیں بازو کے ایک سرگرم گروپ نے منگل کے روز صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر مظاہرے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ان کے علاوہ متعدد دیگر گروپوں نے مختلف ممالک کے خلاف اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر احتجاجی ریلی کا اعلان کیا ہے جن میں ایران کے صدر حسن روحانی کے خلاف ریلی بھی شامل ہے۔

نیویارک سٹی پولیس ڈپارٹمنٹ کے ترجمان جے۔ پیٹر ڈونلڈ کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال بالکل ویسی ہی ہے جو امریکہ کے مشہور ’سوپر بال‘ کی سیکورٹی کے دوران ہوتی ہے جب شہر میں ٹریفک معمول سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ پیر کے روز نیو یارک پہنچیں اور منگل کے روز جنرل اسمبلی میں پہلی بار دنیا بھر کے سربراہان سے خطاب کریں گے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی عمارت سے محض ایک میل کے فاصلے پر موجود اپنے مین ہیٹن کے پینٹ ھاؤس میں قیام کریں گے یا پھر نیو جرسی میں واقع اپنے گولف کورس میں ٹھہرنا پسند کریں گے۔

ہفتہ بھر جاری رہنے والے اس اجلاس کے دوران نیویارک سٹی پولیس NYPD کی دہشت گردی کے خلاف ایلیٹ فورس کا یونٹ، انٹیلی جنس بیورو کے جاسوسی اہلکار اور ایوی ایشن، ہائی وے اور ٹریفک پولیس کے اہلکار بڑی تعداد میں سرگرم عمل رہیں گے۔ NYPD کے ترجمان پیٹر ڈونلڈ کا کہنا ہے کہ اُن کے محکمے کو کئی برسوں سے اس طرح کی صورت حال کا تجربہ حاصل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کے عملے میں ہر شعبے کے اہلکار شامل ہیں جو کسی بھی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ اُن کے پاس بیک اپ پلان کے علاوہ بیک اپ کے بیک اپ کا پلان بھی موجود ہے۔

صدر ٹرمپ کے نیویارک کے دورے اور جنرل اسمبلی کے اجلاس کیلئے امریکہ کی خفیہ سروس، ایف بی آئی، ہوم لینڈ سیکورٹی ڈپارٹمنٹ اور متعدد دیگر وفاقی ایجنسیاں بھی نیو یارک میں سیکورٹی فراہم کرنے کے سلسلے میں تعاون کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی عمارت کا قریبی علاقہ بشمول مڈ ٹاؤن مین ہیٹن ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند کر دیا جائے گا جبکہ کوسٹ گارڈ دریا کے مشرقی حصے میں کشتیوں کے ٹریفک کو بھی محدود رکھیں گے۔

خیال ہے کہ سیکورٹی کے ان انتظامات پر خطیر رقم خرچ ہو گی۔ تاہم پولیس کے ذرائع نے اس کا اندازہ ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG