رسائی کے لنکس

logo-print

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پناہ گزینوں کے عالمی معاہدے کی توثیق کر دی


سلواڈور کے تارکین وطن امریکہ جانے کے لیے قافلے کی شکل میں میکسیکو کا دریائے سچی ایٹ عبور کر رہے ہیں۔ تاہم امریکہ نے پناہ گزینوں کو اپنی سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں دی۔ نومبر 2018

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے تارکین وطن کی محفوظ اور منظم نقل مکانی کی توثیق کر دی ہے جب کہ امریکہ سمیت پانچ ملکوں نے اس قرار داد کی مخالفت کی۔

’ ترک وطن کا عالمی تصور‘پہلی ایسی بین الاقوامی دستاویز ہے جس کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاہم قانونی طور پر اس کی پابندی لازم نہیں ہے۔

جنرل اسمبلی نے بدھ کے روز 5 کے مقابلے میں 152 ووٹوں سے قرارداد کی توثیق کی جب کہ اسرائیل، جمہوریہ چیک، پولینڈ اور امریکہ نے قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ 12 ملکوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

قرار داد کے حق میں ووٹنگ کی شرح ایک ماہ پہلے اسی موضوع پر مراکو کے شہر مراکش میں ہونے والی کانفرنس سے کم ہے جس میں 164 ملکوں نے اس کی حمایت کی تھی۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تارکین وطن کی تعداد 2 کروڑ 50 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ان کی اکثریت نے باضابطہ طریقے سے نقل مکانی کی ہے۔ لیکن جو لوگ قانونی راستہ اختیار نہیں کرتے وہ اکثر انسانی سمگلروں کے چنگل میں پھنس کر خطرات میں گھر جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ تقریباً دو سال سے عالمی مائیگریشن کے معاملے پر ایک طریقہ کار طے کرنے پر بین الاقوامی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

امریکہ لگ بھگ ایک سال پہلے اپنی سرزمین کو درپیش خدشات کی بنا پر معاہدے پر بات چیت سے الگ ہو گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گٹریرس نے معاہدے کی توثیق کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر بھرپور عمل درآمد پر زور دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG