رسائی کے لنکس

logo-print

”ایران پر نئی پابندیاں سخت ترین ہوں گی“


اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یورنیم کی افزودگی ترک نہ کرنے کی پاداش میں ایران پر پہلے سے تین مرحلوں میں پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ امریکہ اور اُس کے مغربی اتحادی ملکو ں کا الزام ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ لیکن تہران کا کہنا ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد اور ملک کی توانائی کی ضرویا ت کو پورا کرنے کے لیے ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلر ی کلنٹن نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف چوتھے مرحلے میں لگائی جانے والی اقوام متحدہ کی پابندیاں سخت ترین ہو ں گی۔ توقع ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تہران پر لگائی جانے والی پابندیوں کی قرارداد پر بدھ کو رائے شماری ہو گی۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس نے کہا ہے کہ قرارداد میں کئی نئے اور لازمی اقدامات شامل کیے گئے ہیں اور اُنھیں توقع ہے کہ 15 رُکنی ارکان پر مشتمل سلامتی کونسل میں اکثریت اِس کی حمایت کرے گی۔

ایران کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد میں ایسے افراد اور کمپنیوں کے خلاف سفری و اقتصادی پابندیاں شامل کی گئی ہیں جو ایران کے جوہری یا میزائل منصوبوں سے متعلق سرگرمیوں سے منسلک رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب کے زیر کنٹرول یا اُس کی نمائندگی کرنے والے اداروں کی نگرانی سخت کردی جائے گی۔ ایران مخالف مجوزہ قرارداد میں جاوید رحیقی کا نام بھی شامل ہے جو کہ اصفہان میں قائم یورنیم افزودہ کرنے کے ایک مرکز میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہے۔

قرارداد کی منظور ی کے لیے کم از کم نو ارکان کی حمایت لازمی ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ سلامتی کونسل کے غیرمستقل ارکان ترکی، برازیل یا پھر لبنان رائے شماری کے وقت کیا موقف اپناتے ہیں۔

ترکی اور برازیل حال ہی میں ایران کے ساتھ ایک سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہو ئے تھے جس کے تحت تہران یورنیم کے کچھ ذخائر ترکی بھیجے گا جس کے بدلے اسے جوہری توانائی کے حصول کے لیے ایندھن فراہم کیا جائے گا۔ لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کے ایران کے ساتھ مضبوط روابط ہیں اور یہ لبنان کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے خبردار کیا ہے کہ اگر نئی پابندیاں لگائی گئیں تو ایران اپنے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند کردے گا۔ ان کے بقول اقوام متحدہ کی پابندیوں کی چھڑی دکھانےوالےاگر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں تو وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یورنیم کی افزودگی ترک نہ کرنے کی پاداش میں ایران پر پہلے سے تین مرحلوں میں پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ امریکہ اور اُس کے مغربی اتحادی ملکو ں کا الزام ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ لیکن تہران کا کہنا ہے کہ اُس کا جوہری پروگرام پُر امن مقاصد اور ملک کی توانائی کی ضرویا ت کو پورا کرنے کے لیے ہے۔

XS
SM
MD
LG