رسائی کے لنکس

افغانستان: داعش خراسان کی پرتشدد کارروائیاں تیز


فائل

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے میں جب 2017ء کے دوران افغان افواج اور طالبان باغیوں کے درمیان علاقے کے کنٹرول کی لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، ملک میں پیدا ہونے والی عدم سلامتی کی ذمہ دار صوبہٴ خوراسان کی داعش (آئی ایس کے-پی) ہے

اقوام متحدہ کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے دہشت گرد گروپ کی افغانستان کی شاخ نے ملک کے سات صوبوں میں اپنی شدت پسند سرگرمیاں تیز کردی ہیں، جب کہ گذشتہ برس یہ سرگرمیان صرف ایک ہی صوبے تک محدود تھیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی ہمدردی کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے میں جب 2017ء کے دوران افغان افواج اور طالبان باغیوں کے درمیان علاقے کے کنٹرول کی لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، ملک میں پیدا ہونے والی عدم سلامتی کی ذمہ دار صوبہٴ خوراسان کی داعش (آئی ایس کے-پی) ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ’’افغانستان میں بڑھتا ہوا عدم استحکام نہ صرف ضلعی مراکز میں حملوں میں اضافے کی صورت میں دکھائی دیتا ہے، بلکہ حملوں کے یہ واقعات دوگنا ہو چکے ہیں، جس کا موجب خوراسان کی داعش ہے۔ اس سال کی پہلی شش ماہی کے دوران حملوں کے 230 سے زائد واقعات سامنے آئے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG